خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 152
خطبات طاہر جلد ۸ 152 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء آوازں کو اس طرح دبا دینے کا موجب بنیں کہ کسی بے غیرت کو آئندہ کے لئے اسلام پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہو۔ایک اور پہلو اس مضمون کا یہ ہے جس سے مجھے بہت تکلیف ہے کہ مسلمان علماء بھی اور بعض سیاسی لیڈر بھی جذباتیات کو ابھار کر بعض مسلمان عوام کو جو لاعلم ہیں جن کو پتا نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ان کو گلیوں میں نکالتے ہیں اور خود اپنے ہی اہل ملک کے سپاہیوں کی گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ایسے واقعات اسلام آباد میں بھی ہوئے ، کراچی میں بھی ہوئے ، بمبئی میں بھی ہوئے ، دوسرے ملکوں میں بھی ہوئے اور بہت سے مسلمان ہیں جو اس دینی غیرت کی وجہ سے شہید ہو گئے ہیں۔یہ درست ہے کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔اس قسم کے خطرناک اور بیہودہ رد عمل کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہ بھی درست ہے کہ جن لوگوں نے اپنی جانیں فدا کیں ہیں ان کو ان باتوں کا کوئی علم نہیں ، ان کی اکثریت بالکل معصوم ہے۔اور صرف حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی غیرت پر حملہ ہوتے ہوئے انہوں نے زندہ رہنا پسند نہیں کیا۔وہ گلیوں میں پلنے والے عام غریب اور مزدور لوگ تھے لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے دین کی غیرت رکھنے والے تھے۔جب مولویوں نے ان سے یہ کہا کہ آج دین کی غیرت تمہیں بلا رہی ہے، آج محمد مصطفی ﷺ کی آواز تمہیں بلا رہی ہے۔تو جو کچھ ان کے پاس تھا یعنی نگی چھاتیاں وہ لے کر میدان میں نکل آئے اور گولیوں کا نشانہ بنائے گئے۔ان کے پسماندگان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔یہ ایک بہت بڑی مشرقی بدنصیبی۔بدقسمتی ہے کہ ان کے لیڈ ر عوام کو اُبھارتے ہیں اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر خواہ وہ سچے ہوں یا جھوٹے یہ ان سے قربانیاں لیتے ہیں اور جب یہ قربانی کے میدان میں جانوروں کی طرح مارے جاتے ہیں اور گلیوں میں گھسیٹے جاتے ہیں ان کی اولادوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔یہ معاملہ ایسا ہے جس میں ہمارے مشترک آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی عزت اور احترام کا تعلق ہے، آپ کی محبت اور غیرت کا تعلق ہے۔اس لئے ہر جگہ جماعت احمدیہ کو میں ہدایت کرتا ہوں کہ جہاں جہاں ایسے لوگ شہید ہوئے ہیں جو اس نام پر شہید ہوئے ہیں اگر چہ وہ غلط تعلیم معلوم کرنے کے نتیجے میں شہید کئے گئے لیکن وہ ان کے گھروں تک پہنچیں ان کا معلوم کریں کہ ان کا کیا حال ہے ، کوئی ان کا پرسان حال ہے بھی کہ نہیں اور اگر یہ معلوم کریں کہ اقتصادی لحاظ سے ان کو امداد کی ضرورت ہے تو ہے،