خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 146
خطبات طاہر جلد ۸ 146 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء قرآن کریم سے جائزہ ثابت ہے بلکہ ضروری ہو جاتا ہے۔اس وقت کی مغربی دنیا کے ہاتھ میں دو بڑے ہتھیار ہیں جن کو یہ اپنے مد مقابل کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ایک ہے عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں اور دوسرے کے خلاف استعمال کرنا اور دوسرا ہے اقتصادی دباؤ۔چنانچہ جب بھی یہ کسی ملک کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہیں تو آپ پڑھتے ہوں گے کہ یونائیٹڈ نیشن (United Nation) نے ، اقوام متحدہ وغیرہ میں یہ کوششیں کی جاتی ہے کہ اس کا اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے۔یہ جو دو ہتھیار ہیں یہ ان کے نزدیک مہذب ہتھیار ہیں۔ان کے خلاف آواز نہیں بلند کی جاسکتی۔ان دو ہتھیاروں کو کیوں عالم اسلام استعمال نہیں کرتا۔بجائے اس کے کہ معصوم، مظلوم مسلمانوں کو گلیوں میں نکال کر ان کو بھیٹر بکریوں کی طرح خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرو اور ٹکڑے ٹکڑے کرو۔جس دشمن نے حملہ کیا اس دشمن کے خلاف نبرد آزما ہو اور انہی ہتھیاروں کو اس کے خلاف استعمال کرو جن ہتھیاروں کو وہ خود استعمال کرنا جانتا ہے اور آج بھی استعمال کر رہا ہے۔پس سلمان رشدی کی اس کتاب کے نتیجے میں جو عالمی رائے عامہ مسلمانوں کے حق میں ہو سکتی تھی ہمارے غلط رد عمل کے نتیجے میں وہ ساری عالمی رائے عامہ ان لوگوں کے حق میں ہوگئی ہے۔یعنی ظلم کرنے والے بھی یہ ہیں اور مظلوم بننے والے بھی یہ ہیں۔آج ساری دنیا ان کے پروپیگنڈے کی وجہ سے ساری دنیا نہیں تو دنیا کا ایک کثیر حصہ اور طاقتور حصہ ان کے پروپیگینڈے سے متاثر ہوکر یہ نتیجہ نکال رہا ہے کہ مسلمان ظالم ہیں اور مغربی ممالک مظلوم ہیں کیونکہ آزادی ضمیر کے جہاد کا معاملہ ہے اور اس معاملے میں مسلمان آزادی ضمیر کو کچلنے کے درپے ہیں جبکہ مغربی دنیا اس کی حفاظت کر رہی ہے۔اور کتاب کا گند اور غلاظت اور نا جائز جملہ اور ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے دلوں کے ٹکڑے اُڑا دینا ایسے ظالمانہ حملے سے، ان کے نزدیک اس چیز کی کوئی بھی اہمیت نہیں رہی۔مسلمان ممالک کے پاس دولت ہے اور اگر وہ چاہیں تو اقتصادی حملے کے ذریعے بھی جواب دے سکتے ہیں اور رائے عامہ کے میدان میں بھی ان سے بڑی قوی جنگ لڑ سکتے ہیں۔ایسے ایسے لکھنے والے یہاں موجود ہیں جن کو اگر ان کے وقت کی ، ان کے قلم کی قیمت دی جائے اور بات سمجھائی جائے تو خو دا نہی کے اخباران کی آواز کو دبا سکتے ہیں۔بڑے بڑے اعلیٰ پائے کے مصنفین موجود ہیں مغربی دنیا میں جو