خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 142
خطبات طاہر جلد ۸ 142 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء کھول کھول کر مغربی اور عیسائی دنیا کے سامنے رکھا جاتا اور بتایا جاتا کہ تم ہمیں کیا تہذیب سکھانے لگے ہو تم تو خوشہ چین ہو اسلام کے اور ساری تعلیم کے نہیں صرف چند حصوں کے جن باتوں کو تم نے آج اپنے زعم میں ترقی یافتہ زمانے میں جا کر ایک ترقی یافتہ تحریک کی صورت میں پایا ہے قرآن کریم کی تعلیم کے لحاظ سے اس میں بہت بہت رخنے موجود ہیں اور تمہاری تعلیم ناقص ہے اور جو کچھ تم بتا رہے ہو یہ اچھا ہے وہ پہلے سے اسلام میں موجود ہے اور جو تمہارے پاس نہیں ہے وہ بھی اسلام میں موجود ہے اور تمہاری تہذیب کے نام پر جو تم نے اصول پیش کئے ہیں ان میں جو رخنے ہیں ان کی بھی قرآن کریم نے نشاندہی فرما دی ہے۔پس بنیادی بات یہی ہے کہ قرآن کریم دو دائروں کو الگ الگ کرتا ہے۔جسمانی دائرے کو الگ کرتا ہے اور کلام کے دائرے کو الگ کرتا ہے۔جو حملے جسمانی دائرے سے تعلق رکھتے ہیں ان کا جسمانی جواب دینے کی اجازت دیتا ہے۔جو حملے کلام کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں ان کا کلام کے ذریعے جواب دینے کی اجازت دیتا ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی بد کلامی کرتا ہے یعنی عام دنیا میں خدا اور مقدس وجودوں کی بات نہیں، عام دنیا میں کسی انسان کے تعلق والے کے خلاف اس کے سامنے بد کلامی کرتا ہے تو عدل کی اعلیٰ تعلیم کے نقطہ نگاہ سے فرماتا ہے کہ ایسا مظلوم اگر بے قابو ہو جائے اور کلام کے ذریعے ویسی بات کرے جو نا پسندیدہ بات ہے۔اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حرف نہیں لیکن وہاں پر یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اس کے مقابل پر ہتھیار نکال لے اور اس کے قتل کے در پے ہو جائے یا اسے کوئی جسمانی سزا دے۔پس یہ دو الگ الگ دائرے ہیں۔جہاں حملہ تلوار سے کیا گیا ہے وہاں تلوار سے جواب دینے کا مسلمان کو حق ہے بلکہ بعض صورتوں میں فرض ہو جاتا ہے اور جہاں زبان سے یا قلم سے حملہ کیا گیا ہے وہاں زبان اور قلم سے جواب دینے کا نہ صرف حق ہے بلکہ فرض بھی ہو جاتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ مغربی دنیا اسلام کو ایک قدیم جاہلانہ مذہب بنا کر دنیا کو دکھائے اگر زبان سے اس حملے کا جواب دیا جاتا اور قرآن کریم کے دیئے ہوئے ہتھیاروں کو عمدگی سے استعمال کرتے ہوئے جوابی حملے کئے جاتے تو یہ ساری بازی الٹ سکتی تھی۔یہ جو جنگ ہے اس میں حکمت چاہئے اور حکمت تو عام مادی جنگوں میں یعنی تلوار کی جنگوں میں بھی چاہئے لیکن خصوصیت سے کلام کی جنگ میں حکمت کا بڑا گہرا