خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 143
خطبات طاہر جلد ۸ 143 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء تعلق ہے۔اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت تھی کہ مغرب کے پاس کون سے ہتھیار ہیں جن کے ذریعے وہ آج اسلام پر حملہ آور ہوا ہو۔ہم کیوں ان ہتھیاروں سے ان پر جوابی حملہ نہیں کر سکتے ؟ جہاں تک گستاخی کا تعلق ہے وہ ہم نہیں کر سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ وجود جو ان کے ہاں مقدس ہے وہ ہمارے ہاں بھی مقدس ہیں۔اس لئے بڑی یک طرفہ کی جنگ بن جاتی ہے اور غیر متوازن جنگ بن جاتی ہیں۔اگر وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات پر حملے کرتے ہیں تو فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ کا مضمون تو ہم پر صادر ہوتا ہے لیکن جوابی حملہ کرنے کی کوئی جانہیں پاتے۔کیونکہ حضرت مریم اسی طرح ہمارے لئے مقدس ہیں بلکہ بعض پہلوؤں سے زیادہ مقدس ہیں جس طرح عیسائیوں کے نزدیک ہیں۔اور حضرت مسیح اپنی حقیقی شان میں ہم پر زیادہ روشن ہیں، ہم ان کی زیادہ معرفت رکھتے ہیں جو ایک عیسائی دنیا کے تصوراتی مسیح کے۔پس یہاں ایک غیر متوازن جنگ میں اور بھی زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔آخر کس طرح ان باتوں کا جواب دیا جائے؟ پہلی بات تو یہ ہے جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں جماعت کو نصیحت کی تھی کہ اگرچہ یہ کتاب پڑھنا ایک شدید روحانی اذیت ہے لیکن بعض محققین اگر جواب دینے کی خاطر اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ ان کی مجبوری ہے۔حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِ ؟ والا مضمون یہاں اس غرض سے اطلاق نہیں پاتا کہ یہاں عالم اسلام کے دفاع کے لئے اور اسلام کے روحانی جہان کے دفاع کے لئے ایک کارروائی، ایک تکلیف دہ کا رروائی ضروری ہے۔جب میدان جنگ میں آپ جاتے ہیں تو چر کے بھی لگتے ہیں، آپ زخم بھی کھاتے ہیں، جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں مگر مجبوری ہے۔پس اس تکلیف کو خدا کی خاطر برداشت کرنا پڑے گا اور بعض علماء کو خصوصیت سے اس کتاب کا مطالعہ کر کے اس کا تجزیہ کرنا پڑے گا، ہر قسم کے الزامات کو الگ الگ کرنا ہوگا ، تاریخ اسلام کے حوالوں سے دیکھنا ہوگا کہ آیا کسی الزام کی کوئی بنیاد موجود ہے یا نہیں؟ خواہ وہ کتنی ہی کمزور بنیاد کیوں نہ ہو اور کون سے الزامات ایسے ہیں جو محض فرضی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی بھی تعلق نہیں اور اس طرح ایک سلسلہ مضامین دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہونا شروع ہو جانا چاہئے۔جس میں اس گندی کتاب کے ناپاک حملوں کو عقلی لحاظ سے اور حکمت کے لحاظ سے رڈ کر کے دکھایا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ تم جھوٹے اور بد دیانت لوگ