خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 141
خطبات طاہر جلد ۸ 141 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء کرتے ہیں۔ایسے بدکاروں اور بے لگام لوگوں کا حساب ان سے نہیں لیا جائے گا۔ان کے اوپر کوئی حرف نہیں ، وہ ہر گز ذمہ دار نہیں ہیں کہ یہ لوگ کیسی کیسی شیطانی با تیں کرتے ہیں تو جب ذمہ واری تمہاری نہیں ہے، جب تم سے حساب نہیں لیا جائے گا تو پھر تم کیوں قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہو۔وَلكِنْ ذِكْری ہاں ایک فرض تمہارا ضرور ہے کہ نصیحت کرو اور نصائح کے ذریعے ان کو سمجھانے کی جو کوشش ممکن ہو ا ختیار کرو۔لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ہو سکتا ہے، بعید نہیں کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔پس جن کو قتل کرنے کا حکم ہو ان کے متعلق کہاں سے کہا جاسکتا ہے کہ نصیحت کرو ہو سکتا ہے وہ تقویٰ اختیار کریں۔انہیں تین آیات میں یا چار آیات میں نہیں قرآن کریم میں جہاں بھی آپ اس مضمون کو براہ راست یا اشارہ موجود پائیں گے وہاں کسی ایک جگہ بھی انسان کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ خدا یا خدا کے برگزیدہ بندوں کی گستاخی کرنے کے جرم میں ایسے لوگوں کو خود سزائیں دیں بلکہ سزا کا معاملہ خدا تعالیٰ نے کلیہ اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور بار بار کھول کر یہ مضمون بیان فرمایا ہے۔خدا تعالیٰ نے جو یہ طریق اختیار فرمایا اس میں بہت بڑی حکمت ہے۔امن عالم کا انحصار اس بات پر ہے، انسانی سوسائٹی میں امن قائم کرنے اور فساد کے خطروں کو دور کرنے کے لئے یتعلیم نہایت ضروری تھی۔وجہ یہ ہے کہ جہاں تک تقدس کا تعلق ہے اس کے تصورات مختلف قوموں میں مختلف ہیں اور ہر قوم نے اپنے ذہن میں کچھ مقدس وجود بنا رکھے ہیں اور جہاں تک ان مقدس وجودوں کا تعلق ہے ان کے اوپر حملے کا تصور بھی جدا جدا ہے بعض جگہ تنگ نظری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہمارے مقدس وجود کا تم نے نام لیا تو یہ بھی ان کی تذلیل اور ان کی گستاخی ہے۔اگر خدا تعالیٰ ہر انسان کو اپنے ذہن کے مطابق مقدس وجود کی بے حرمتی پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دیتا تو ساری دنیا میں ہر طرف فساد پھیل جاتا۔کوئی دنیا کا ایسا انسان نہیں جس کے مذہب کی رو سے کسی دوسرے مذہب پر کوئی حملہ نہ ہوتا ہو اور بعض ایسے مذاہب ہیں جو اپنے احساسات میں اتنے تیز ہیں کہ حملہ نہ بھی ہو تو حملے کا تصور کر لیتے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے انسانی سوسائٹی کو فساد سے بچانے کی خاطر یہ بین الاقوامی تعلیم دی اور یہ بین الاقوامی تعلیم آپ کو دنیا کے کسی اور مذہب میں نظر نہیں آئے گی۔اس لئے کہ کوئی اور مذہب بین الاقوامی نہیں تھا اور نہ ہے اور اسی مذہب کو یہ تعلیم عطا ہوئی تھی ، اسی کو عطا ہوئی جس کو تمام عالم کے لئے بھجوایا گیا ہے۔پس بجائے اس کے کہ ان تعلیمات کو