خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 139

خطبات طاہر جلد ۸ 139 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء اور خدا تعالیٰ نے تم پر اس کتاب میں یہ حکم نازل فرما دیا ہے۔بڑا ہی پر شوکت اور پر زور کلام ہے۔کہ خدا تعالیٰ نے اس کتاب میں جو احکام کی کتاب ہے مسلمانوں کے لئے یہ حکم نازل فرما دیا ہے کہ جب بھی تم خدا تعالیٰ کی آیات کا انکار ہوتا ہوا سنو یا دیکھو کہ خدا تعالیٰ کی آیات سے تمسخر کیا جا رہا ہے جیسا کہ بعینہ اس وقت سلمان رشدی کی کتاب کا معاملہ ہے تو کیا کرو؟ کیا یہ کرو کہ اس کے قتل کے فتوے دو یا معصوم اور لاعلم مسلمانوں کو بازاروں میں نکال کر گولیوں کا کونشانہ بناؤ ؟ ہر گز نہیں۔فرمایا ایسی صورت میں تمہارے لئے یہ رد عمل مقرر ہے۔فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِہ کہ ان کے ساتھ ہر گز نہ بیٹھو لیکن ہمیشہ کی قطع تعلقی پھر بھی نہیں کرنی اگر وہ نصیحت پکڑ جائیں اور ان شرارتوں سے، ان دکھ کی باتوں سے باز آجائیں تو اس کے بعد پھر تم ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہو لیکن جب تک وہ اس ذلیل طرز عمل پر قائم ہیں اور خدا تعالیٰ کی پاکیزہ آیات کی گستاخی کرتے ہیں اور تمسخر سے کام لیتے ہیں تمہیں ان کے پاس بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے اور یہ بیٹھنے کی اجازت نہ دینا اپنی ذات میں ایک بہت بڑا حکیمانہ حکم ہے۔کیونکہ اس کے دو نتیجے نکل سکتے ہیں۔یا تو کچھ کمزور طبیعتیں اپنے پیاروں کے خلاف باتیں سن کر مشتعل ہو جاتی ہیں اور قوانین اور احکام کو پس پشت ڈالتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر پھر بعض دفعہ ایسے ظالموں کو قتل تک کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔تو دنیا میں اس سے ہر طرف فساد پھیل سکتا ہے دوسرے اپنی غیرت پر حملہ ہوتا ہے اور اگر انسان بیٹھا ر ہے اور ایسی باتیں سنتا ر ہے تو اس کی بے غیرتی اس کے ایمان کو ضائع کر سکتی ہے۔پس دونوں صورتوں میں ہلاکتیں ہے۔پس کیسی اعلیٰ اور مہذبانہ تعلیم ہے اور کیسے انسان کا نفس یا انسان کے نفس سے دوسروں کے نفوس کی حفاظت کرتی ہے کہ جب یہ فرمایا جب تم ایسی باتیں گستاخانہ سنو تو ایسی مجالس سے اُٹھ آیا کرو اور مزید نہیں بیٹھا کرو اور جہاں تک ان کی سزا کا تعلق ہے وہ خدا پر چھوڑو۔اِنَّ اللهَ جَامِعُ الْمُنْفِقِينَ وَالْكُفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا - خدا تعالی منافقوں کو بھی اور کافروں کو بھی سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔دوسری جگہ فرمایا: