خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 138
خطبات طاہر جلد ۸ 138 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء نے حضرت مریم " پر بہت ہی بڑا بہتان باندھا ہے اور اس بہتان کے نتیجے میں حضرت مریم جو حضرت مسیح کی والدہ تھیں اور عیسائیوں کے نزدیک بہت ہی زیادہ عزت کے لائق ہیں۔ان کی ذات پر نہایت ناپاک حملہ کیا گیا ہے اور اس مزعومہ خدا کے بیٹے کی ذات پر بھی حملہ کیا جو دراصل مقدس وجود تھا اور خدا تعالیٰ کا ایک سچا رسول تھا۔تو کتنا عظیم الشان قرآن کریم کا علم کلام ہے کہ یہ کہنے کی بجائے کیونکہ عیسائیوں نے خدا کی ذات پر حملہ کیا ہے اس لئے تم ان پر حملے کرو اور ان کو تکلیفیں پہنچاؤ اور ان کے دلوں کو دکھ دو۔عیسائیوں کے دلوں کو دکھ دینے والوں کے خلاف آواز بلند کی اور فرمایا کہ کچھ ایسے ظالم ہیں جو خدا پر حملے کر رہے ہیں اور کچھ ایسے ظالم ہیں جو خدا پر حملے کرنے والوں پر حملے کر رہے ہیں۔وہ دونوں حملے نا جائز ہیں اور دونوں حملے ناپاک ہیں اور سچائی کا یہ فرض ہے کہ ہر جگہ جہاں جھوٹ اور باطل نظر آئے وہاں وہ اس کے خلاف جہاد کا علم بلند کرے۔پس یہ ہے قرآنی تعلیم اور ان دونوں جگہ میں آپ کو کہیں یہ مضمون دکھائی نہیں دے گا کہ چونکہ عیسائی خدا کی گستاخی کرتے ہیں اس لئے نیاموں سے تلوار میں نکالو اور ان کے اوپر حملہ آور ہو جاؤ اور ان کے سرتن سے جدا کر دویا یہودی عیسائیوں کے مقدس وجودوں اور خود تمہارے مقدس وجودوں کی گستاخی کرتے ہیں اس لئے تم اٹھو اور ان کے خلاف تلوار میں نکالو اور ان پر حملہ آور ہوا اور انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابودکر دو، ان سے زندہ رہنے کا حق چھین لو کیونکہ انہوں نے ان وجودوں کے خلاف گستاخی کی ہے جن سے تم محبت کرتے ہو۔جن کا تقدس تمہارے دل میں ہے۔پھر تیسری ایک آیت میں قرآن کریم نے اس مضمون کی ایک عمومی شکل پیش فرمائی اور ایک غیرت مند مسلمان کے رد عمل کا ذکر فرمایا۔یہ دو آیات ہیں جن میں ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے۔ایک آیت سورۃ نساء آیت ۱۴۱۔اس میں فرمایا : وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتُبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ أَيَتِ اللهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللهَ جَامِعُ الْمُنْفِقِينَ وَالْكُفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيْعًا