خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 128
خطبات طاہر جلد ۸ 128 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء کی خدمتوں کی ہوش ہی کوئی نہیں ہے وہ صرف وقتی طور پر ، ہر اس تحریک میں حصہ لیتا ہے جس کے نتیجے میں بے چینی پھیلے، Blood shed ہو، خون ہو قتل و غارت ہو، گالیاں دی جائیں اس کے سوا اس کو کوئی اہلیت نہیں رہی۔ اس کا جو رد عمل یہاں پیدا ہو چکا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ ابھی ہوگا۔ وہ Rationalism کو تقویت ملے گی اور آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کے خلاف دیر تک اب وہ لوگ اس ناکام کوشش کے نتیجے میں جو انہوں نے کی ہے سازشیں کرتے رہیں گے، نئی قسم کی مصیبتیں کھڑی کرتے رہیں گے اور جو کچھ بھی سوسائٹی میں مسلمان نے ایک مقام حاصل کیا تھا اُس مقام سے گر کر کہیں پہنچ گیا ہے اور بے مقصد ۔ اگر کسی تحریک کے نتیجے میں مقام چھوڑ کر قعر مذلت میں بھی جانا پڑتا علی تا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کو بحال کیا جاتا اور آپ کی حفاظت کی جاتی تو میں اس کے حق میں عليه تھا، اور میں آج بھی اس کے حق میں ہوں، ہمیشہ اس کے حق میں رہوں گا لیکن آنحضرت علی کی عزت کی حفاظت کی بجائے آپ کو دنیا میں اور زیادہ اور وسیع طریق پر گندی صورت میں پیش کرنے کے لئے ایک ذریعہ آپ بن جائیں اور خود قومی خودکشی بھی کریں یہ کس اسلام کے نتیجے میں ہوا، یہ کس حکمت اور کسی عقل کے مطابق ہو رہا ہے اور ادھر حالت یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے شرارت کر کے خاص طور پر ایران پر حملہ کیا تھا اور توقع یہ رکھتے تھے جس نے بھی یہ شرارت کی ہے کہ ایران اس کی جوابی کارروائی کرے گا ۔ اب جو عرب کا دل ہے یعنی مکہ اور مدینہ اور حجاز کی سرزمین وہاں سے کوئی جوابی کارروائی کا اعلان نہیں ہورہا۔ ایران بول رہا ہے اس لئے مصر سے فتوئی ہو گیا ہے کہ نہیں بلا شیمی (Blasphamy) کے اوپر کسی کو قتل کرنے کا فتوی دینے کی اجازت نہیں۔ کیسے تضادات پیدا ہو گئے ہیں ۔ ایک طرف یہ تعلیم کہ اگر کوئی آنحضرت ﷺ کی عزت پر کوئی اشارہ بھی ایسی بات کہے جو گستاخی سمجھی جائے اس کا قتل فرض ہے اور کہاں خمینی کی دشمنی میں اب یہ فتویٰ کہ اتنی غلیظ کتاب جو سراسر خباثتوں پر مشتمل ہے اُس کے مصنف کے اوپر بھی موت کا فتویٰ جاری نہیں کیا جا سکتا اسلامی تعلیم کی رو سے۔ نہ اس غیر دنیا میں مذہب رہا نہ اپنی دنیا میں مذہب رہا۔ وہاں بھی ایک جھوٹی سیاست اور ملمع کاری ہے یہاں بھی ایک جھوٹی سیاست اور ملمع کاری ہے۔ وہ دیکھئے پاکستان کے ایک مشہور عالم کہلانے والے مولوی محمد طفیل صاحب جنہوں نے افغان صورتحال سے خوب فائدہ اُٹھا یا ضیاء کے زمانے میں ۔ اس سلمان رشدی نے معافی کا اعلان کیا