خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 124
خطبات طاہر جلد ۸ 124 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء مسئلہ رکھا میں نے کہا آزادی تقریر اپنی جگہ درست ہے لیکن آپ کا عمل یورپ کے سیاستدان کا عمل بتا رہا ہے کہ یہ بے محابا نہیں ہے اور بے حد نہیں ہے۔جب آزادی تقریر بعض حصوں میں ، بعض سرحدوں سے گزرنے کی کوشش کرتی ہے تو آپ اُس پر قدغن لگاتے ہیں اُس کی راہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں چنانچہ میں نے کہا جس انگلستان میں آجکل شدت کے ساتھ سلمان رشدی کی کتاب کی تائید میں باتیں ہو رہی ہیں اور آزادی تقریر کے نام پر ہو رہی ہیں۔وہاں کی پارلیمنٹ میں اگر مسز تھیچر یا اور پارلیمنٹ ممبروں کے خلاف ویسی ہی خبیثا نہ زبان استعمال کی جائے جیسی اس کتاب کے مصنف نے دنیا کے مقدس ترین بزرگوں کے متعلق استعمال کی ہے تو کیا آزادی تقریر کے نام پر آپ یہ زبان برداشت کریں گے۔کیا انگلستان کی پارلیمنٹ اس کو اجازت دے گی؟ ایسے شخص کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے گندے الفاظ خود کھا جائے۔ورنہ اُسے اٹھا کے ایوان سے باہر پھینک دیا جائے گا تو وہاں آزادی تقریر کا حق کیوں یاد نہیں آتا؟ اس لئے کہ آپ کی عقل آپ کو بتاتی ہے کہ آزادی تقریر کا حق غیر محدود نہیں ہو سکتا۔بعض دائروں میں اسے محدود کرنا ہوگا اور اسمبلی کا دائرہ اُن دائروں میں سے ایک ہے۔مذہب کا دائرہ اس سے زیادہ حقدار ہے کہ وہاں اس حق کو اس حد تک محدود کیا جائے کہ کسی پر ظالمانہ قہقے نہ لگائے جائیں۔پس یہ جھوٹ ہے کہ آزادی ضمیر کی آزادی تقریر کی حفاظت کی جارہی ہے۔بیچ میں سے وہ بہت خوش ہیں کہ خوب ہمیں موقع ملا ہے عالم اسلام سے بدلہ لینے کا اور ان کو دُکھ پہنچانے کا اور تہذیب کے نام پر کسی کو دُکھ دینا یہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے عالم اسلام کو دکھ پہنچے۔ایک پہلو تو اس کا یہ ہے جو آپ کے پیش نظر رہنا چاہئے دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ ہیں جو اس صورتحال کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایسی کثرت کے ساتھ مضامین لکھتے اور صورتحال کو واضح کرتے اور یہ جو درمیانی طبقہ ہے جو لا علم طبقہ یہ اس وقت اس جھوٹے پراپیگنڈے کی لپیٹ میں کلیہ آچکا ہے۔یہ اس لئے ان باتوں کو نہیں سمجھتے کہ ایک تو جیسا کہ میں نے بیان کیا آزادی تقریر کا تصور غلط رنگ میں ان کے سامنے رکھا گیا ہے۔دوسرے دو کمزوریاں اس وقت مغربی قوموں میں جاگزین ہو چکی ہیں۔گہرے طور پر ان میں جڑیں پکڑ چکی ہیں۔ایک بے حیائی اور دوسرے مذہب سے دوری۔چنانچہ یہاں حضرت عیسی علیہ السلام کے