خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 122 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 122

خطبات طاہر جلد ۸ 122 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء سوال یہ ہے کہ آزادی ضمیر کا حق سب سے زیادہ اسلام نے قائم کیا ہے اور آزادی تقریر کا حق بھی اسلام بڑی شان کے ساتھ مسلمانوں کو اور ساری دنیا کو دیتا ہے لیکن بعض جگہ شرافت کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔اُن حدود میں آزادی کے نام پر داخل ہونے کی اسلام اجازت نہیں دیتا اور تعلیم ایسے خوبصورت رنگ میں پیش کرتا ہے کہ غیروں کو نہیں روکتا کہ تم حملے نہ کرو بلکہ مسلمانوں کو روکتا ہے کہ تم غیروں کے مقدس لوگوں پر حملے نہ کرو۔اس تعلیم کو اگر مسلمان ممالک نے اپنایا ہوتا تو کبھی یہاں تک نوبت نہ پہنچ سکتی۔اگر پہنچتی بھی تو دنیا کے منہ پر وہ یہ باتیں مار سکتے تھے کہ ہم تو تمہارے مقدس بزرگوں کی عزت کی حفاظت کرتے ہیں۔اُن کی بھی ہم حفاظت کرتے ہیں جن کو ہم سچا سمجھتے ہیں۔وہ تو ہم نے کرنی ہی تھی لیکن اُن کی بھی کرتے ہیں جن کو ہم سچا نہیں سمجھتے اور سینکڑوں ایسے غیر مذاہب کے بزرگ ہیں جن کی احمدیت کی نظر میں تو اس وجہ سے عزت ہے کہ ہم اسلامی عمومی تعلیم کی رو سے اُن کو سچا سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے اکثر فرقے اُن کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور اُن کے لئے بعض دفعہ عزت کا لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔اس قرآنی تعلیم کی رو سے جن کو وہ جھوٹا سمجھتے تھے اُن کی عزتوں کی حفاظت کرتے کیونکہ قرآن کریم نے تو یہاں تک فرمایا کہ جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہ دو۔اس سے زیادہ بہتر اور کیا تصور ہو سکتا ہے۔بزرگوں کی تعلیم ان مذاہب کے بزرگوں کی عزت کرنا تو اس کے نیچے ہے جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہیں دینی۔فرمایا کہ اگر ایسا کرو گے تو پھر اگر انہوں نے تمہارے خلاف گالیاں دیں پھر تمہیں اعتراض کا کوئی حق نہیں ہوگا۔پھر انہوں نے اگر تمہارے خدا کو، تمہارے بزرگوں کو گالیاں دیں تو تم نے خود اُن کو دعوت دی ہوگی کہ آؤ اور ایسا کرو۔تو کتنی حسین تعلیم ہے اسلام کی جو ضمیر کو آزاد بھی کرتی ہے لیکن بھٹکنے سے بھی روکتی ہے۔اب مغرب نے جو اختیار کیا ہے اپنے دفاع کا طریق وہ یہ ہے کہ ہم آزادی ضمیر اور آزادی تقریر پر کسی قیمت پر حملہ نہیں ہونے دیں گے اور کہتے ہیں کہ سلمان رشدی نے جو کچھ لکھا ہے ہم اس میں اس لئے دخل نہیں دے سکتے کہ ہمارے ملک میں آزادی تقریر ہے۔تمہارے ممالک میں بدتہذیبیاں ہیں ، جہالتیں ہیں، تعصبات ہیں، تمہارا مذہب ایسا ہے کہ جو دوسرے کی زبان بندی کرتا ہے اس لئے تم لوگ یہ سمجھ نہیں سکتے کہ انسانی ضمیر کی آزادی کہتے کس کو ہیں۔ہمیں دیکھو ہم ان قدروں کے علمبر دار بنے ہوئے ہیں۔جن قدروں کا سچا حقیقی علمبر دار اسلام تھا ان قدروں کی غلط