خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 116

خطبات طاہر جلد ۸ 116 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء محققین کے منہ بند کئے ہیں کہ اُن کی دلیل میں کوئی جان کوئی قوت نہیں محض ایک بیہودہ سرائی ہے اس سے بڑھ کر اُس کی کوئی حیثیت نہیں۔اب یہ شخص سلمان رشدی دہر یہ بھی ہولیکن پیدائشی طور پر اسلام کا دشمن تو نہیں سمجھا جا سکتا اس کو اور اتنا گہرا مطالعہ اس کا کہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان وہ بنیادی چیزیں کون سی ہیں جن پر اسلام اور عیسائیت کے دلائل کی فتح و شکست کا انحصار ہے۔یہ ایسے شخص سے توقع نہیں رکھی جاسکتی اور وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ اس کا کوئی ایسا مطالعہ نہیں۔چنانچہ اپنے مطالعہ کی بنیاد کے طور پر طبری کو پیش کرتا ہے اور طبری میں تو ایسا کوئی ذکر نہیں۔یقیناً ایسے عیسائی گروہوں کی طرف سے اس کتاب کا مواد اس کو مہیا کیا گیا ہے جو اسلام کی جڑوں پر دور تک حملہ کرنا چاہتے ہیں جو تاریخ میں بہت دور تک گہری دبی ہوئی ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے تک وہ اُتر جاتی ہیں۔چنانچہ حضرت اسماعیل کے متعلق وہ بات اس طرح شروع کرتا ہے کہ ناجائز اولا دکہتا ہے اور پھر نہایت ہی غلیظ نا قابل برداشت لفظ استعمال کرتا ہے اُن کے لئے۔اگر لا مذہب آدمی ہو تو دوسرے انبیاء پر بھی حملے کرتا لیکن اُس کے حملے خاص طور پر آنحضرت ﷺ کے آباؤ اجداد پر اور اُن بزرگوں پر ہیں جن کی اسلام میں خاص اہمیت ہے لیکن آگے جا کر جب صحابہ کے دور میں اس کے حملوں کا میں نے جائزہ لیا تو ایک عجیب یہ بات سامنے آئی کہ اُمہات المؤمنین پر حملے تو سمجھ آتے ہیں یہ خبیث لوگ ہمیشہ اس طرح کرتے چلے آئے ہیں لیکن حضرت سلمان فارسی کو کیوں خاص طور پر اپنی خباثت کا نشانہ بنایا گیا ؟ اُس وقت یہ دوسرا نقطہ سمجھ آیا کہ چونکہ ایران کے ساتھ آجکل ان قوموں کی بے انتہاء دشمنی چل رہی ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ایران شکست کھا گیا ہے لیکن اُس نے مغرب کی بالا دستی کو تسلیم نہیں کیا۔چاہے احمقانہ طور پر جوابی حملے کئے ہوں، اپنا نقصان کیا ہو، خودکشی کی ہو لیکن چوٹ مارنے سے باز نہیں آیا اور اپنا سر نہیں جھکا یا مغرب کے سامنے۔یہ چیز ان کی انا پر ایسے عذاب کا موجب بنی ہوئی ہے کہ ہر دوسری چیز کو معاف کر سکتے ہیں، ثمینی کو معاف نہیں کر سکتے اور ایرانی کو معاف نہیں کر سکتے۔اس لئے چونکہ حضرت سلمان فارسی وہ اکیلے صحابی تھے جو ایک بہت صاحب عظمت تھے اور ایرانی تھے اس لئے اُن پر حملے سے یہ سمجھے ، اُن کی سکیم بنانے والے کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ حملہ جو ہے یہ ایران کو تکلیف پہنچائے گا اور اُس کو خاص طور پر چوٹ لگے گی اور ایسا ہی ہوا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بھی حملہ ہے لیکن وہ جانتے