خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 117
خطبات طاہر جلد ۸ 117 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء تھے کہ یہ حملہ شائد شیعوں کو تکلیف نہ پہنچا سکے۔اس لئے دوسرا آدمی سلمان فارسی چنا گیا ہے۔ابوبکر بھی چنے جاسکتے تھے، عمرؓ بھی اپنے جاسکتے تھے، عثمان اور علی بھی چنے جا سکتے تھے۔ان سب کو چھوڑ کر سلمان فارسی کا انتخاب بتاتا ہے کہ یہ ساری کتاب ایک گہری سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے اور بڑی باریک بینی کے ساتھ یہ ایک ایسا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو وہاں وہاں چوٹ لگاتا ہے جہاں یہ چوٹ لگانا مقصود ہے۔پس یہ کتاب جو ایک غلاظت کی پوٹ ہے یہ محض ایک غلاظت کی پوٹ نہیں بلکہ نشانے کے ساتھ یہ غلاظت مقدس چہروں پر ماری گئی ہے اور اس نیت ، اس ارادے کے ساتھ پھینکی گئی ہے کہ کثرت کے ساتھ اہل اسلام کے دل دکھیں اور بے چین اور بے قرار ہوں اور کچھ نہ کرسکیں۔اس کا ایک ایرانی پس منظر بھی ہے اور کچھ یہ بھی کہ گزشتہ کچھ سالوں سے تقریباً پندرہ بیس سال سے کم سے کم مغربی ملکوں نے ایک دوغلی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔وہ یہ ہے کہ اُن مسلمان ممالک کے دوست ہیں اور اُن کو تقویت پہنچاتے ہیں جو اسلام کے متعلق ایسے متشددانہ رویے رکھتے ہیں اور جبر اور استبداد کی تعلیم کے قائل ہیں۔یہ اس لئے ہے تا کہ اپنے ملکوں میں وہ اسلامی نظریے کا سہارا لے کر اشتراکیت کو کچلیں اور مغربی دشمن طاقتوں کو بھی اسی تلوار سے قتل کریں اور ختم کریں۔یہ اُن کا منصوبہ ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب وہ اپنے ممالک میں اسلام کے نام پر مظالم کریں تو مغربی دنیا میں بھی ان مظالم کو اچھالا جائے اور اسلام کی ایک نہایت بھیانک تصویر پیش کی جائے۔پس جہاں ایک طرف سعودی عرب کو پوری امریکہ کی حمایت حاصل رہی وہاں سعودی حکومت نے جب ایک شہزادی کو قتل کروایا ایک فحاشی کے الزام میں تو اُس کی نہایت ہی مبالغہ آمیز اور خوفناک تصویریں اور فلمیں بنا کر ساری دنیا میں پیش کی گئیں اور سعودی عرب نے اُس کے خلاف بڑا شدید احتجاج کیا۔اسی طرح امریکن اخبار سعودی کردار پر حملہ کرنے سے کبھی بھی باز نہیں آئے اور وہ ساری باتیں وہ تھیں جن کے او پر امریکہ کی حکومت کی بھی پوری چھتری تھی اور پوری طرح اُس کی پشت پناہی حاصل تھی۔اس لئے یہ ان کے لئے ایک مسئلہ بن گیا کہ وہ حکومتیں جو اسلام کے نام پر جبر کرتی ہیں اور جن کی پوری سرپرستی مغرب کو حاصل ہے اُن کی جبر کی عادتیں یار جحانات اگر اچھل کر مغربی دنیا میں آئیں تو پھر ہم کیا کریں گے؟ چنانچہ ایک طرف ان خوفناک طاقتوں کو تقویت دے کر اور نیا خون دے کر اُبھارنے کی کوشش کرتے رہے دوسری طرف مغرب میں ان کو بدنام کرتے رہے اور یہ چاہتے تھے کہ اسلام کا