خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 113

خطبات طاہر جلد ۸ 113 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء جس کو انہوں نے ظاہری طور پر غیر جانبدار تحقیق کی ملمع کاری کے اندر پیش کیا۔پھر وہ دور بدلا جیسا کہ میں نے گزشتہ بعض خطبات میں بھی بیان کیا تھا۔۱۹۸۴ء میں جب میں انگلستان آیا ہوں تو میں نے اس مضمون پر روشنی ڈالی تھی کہ متقین نے پھر اسلامی دنیا کی بڑھتی ہوئی طاقت کے پیش نظر اپنی پالیسی تبدیل کر لی اور حملے چھپے ہوئے اور دبے ہوئے کرنے شروع کئے اور زیادہ تر اُن مسائل کو اُچھالا جن مسائل کو اچھالنے میں اسلامی ریاستیں یہ بجھتی تھیں کہ ہماری تائید کی جارہی ہے۔مثلا قتل مرتد میں بڑی شدت کے ساتھ ان لوگوں کی تائید کی جو کسی بزرگ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اُس کو قتل کر دینا چاہئے اور حوصلہ مخالفت کے مقابل پر نہیں دکھانا چاہئے۔یہ وہ چند باتیں ہیں بنیادی طور پر یعنی حوصلے کی کمی ، برداشت کی کمی اور غیرت کا غلط تصور اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا اور ہر قسم کی مخالفانہ رائے کو شدت کے ساتھ کچلنے کی کوشش کرنا یہ وہ کچھ بنیادی باتیں ہیں جن پر انہوں نے زوردیا اور یہ ثابت کیا کہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے اور چونکہ اس زمانے کی بعض مسلمان ریاستوں کو اپنے ملک میں جبر وتشدد کے لئے اس قسم کی اسلامی سندات درکار تھیں اور وہ یہی چاہتے تھے کہ اسلام کو اس رنگ میں پیش کیا جائے جس کے نتیجے میں اُن کا استبداد ان دائروں میں مکمل ہو جائے جن میں وہ حکومت کرتے ہیں اس لئے اُنہوں نے ان چیزوں کو اپنی تائید میں سمجھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ہم پر اس دور میں عظیم الشان احسان کیا ہے وہ بہت دائروں پر پھیلا ہوا ہے لیکن یہ دائرہ خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ تمام ایسی غلط روایات کو تحقیقی طور پر رد فرمایا جن کے نتیجے میں اسلام کی تصویر ایک بھیانک مذہب کے طور پر دنیا میں اُبھر رہی تھی اور ایسی تعلیم کے طور پر پیش کیا جو پاک فطری تعلیم تھی جو دلوں میں اپنے ذاتی حسن کی وجہ سے خود بخو د جذب ہونے اور دلوں کو قائل کر لینے کی اہلیت رکھتی تھی۔اس پر سب دنیا میں علماء نے شور مچایا اور مخالفین نے احمدیت کے خلاف مہمات شروع کیں کہ یہ اسلام کو بگاڑ کر پیش کر رہے ہیں۔سلمان رشدی کی کتاب میں جو کچھ لیا گیا ہے وہ اُنہی روایات سے لیا گیا ہے جن کو احمدیت نے رد کیا تھا اور اس جرم میں احمدیوں کے خلاف شدید تحریکات چلائی گئیں اور اس کے مقابل پر ان لغو اور بیہودہ روایات کو تسلیم کر لیا گیا۔اُن روایات پر بنا کر کے اُس نے ایک ناول لکھا اور زبان نہایت غلیظ اور بازاری اور سوقیانہ، ایسی غلیظ زبان کہ جو ہماری بعض گلیوں میں بداخلاق بچے روز مرہ گندی زبان