خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 112
خطبات طاہر جلد ۸ 112 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء ایسے ہیں جو یہ سمجھ بھی نہیں سکتے کہ وہی شرارت اور وہی خباثت جو گزشتہ تاریک صدیوں میں عیسائی مستشرقین کی طرف سے اسلام کے خلاف جاری تھی اس نے نیا رنگ بدلا ہے لیکن خباثت وہی ہے اور دشمنی وہی ہے۔چنانچہ اس پہلو سے جب ہم اس دور کے پس منظر پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کئی سو سال تک مغربی دنیا میں مستشرقین زیادہ تر وہی لوگ تھے جو عیسائی پادری تھے اور عیسائی مذہب سے براہ راست اُن کا ایک خادمانہ تعلق تھا۔اس دور میں اسلام کے خلاف جو کچھ بھی لکھا گیا وہ ننگے حملے تھے۔بڑے گندے تھے لیکن ننگے اور واضح اور کھلے حملے تھے اور اُن کا طریقہ کار یہ تھا کہ کمزور ترین روایات جو مسلمانوں ہی کی کتب میں موجود ہیں اُن کو اُٹھا کر اُن کو واقعاتی صورت میں پیش کیا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ ہم حقین ہیں اپنی طرف سے ہم اسلام کے خلاف کوئی بات نہ کہتے ہیں، نہ اس کو تعلیمی روایات کے مطابق سمجھتے ہیں یا تصنیفی روایات کے مطابق سمجھتے ہیں۔اس لئے جو کچھ بھی انہوں نے لکھا اس کی بنیادیں اُنہوں نے اسلامی لٹریچر میں سے تلاش کیں۔واقدی مؤرخین میں سے اُن کا بہت مرغوب ہوا۔اسی طرح طبری نے بے احتیاطی سے جو بعض لغو اور بے ہودہ روایتیں اکٹھی کیں اُن پر اُنہوں نے بنا کی اور مغربی دنیا کے سامنے یہ تاثر پیش کیا کہ دیکھو مسلمان مصنفین جو بڑے رتبے اور اعلیٰ مقام کے مصنفین ہیں جن کا وقار ہے اسلامی دنیا میں اُن کی کتابوں سے ہم یہ حوالے پیش کر رہے ہیں اس لئے یہ ہے حقیقی تحقیق ، اصل تحقیق اور یہی اسلام کی صورت ہے جو اُبھر رہی ہے۔جو بد دیانتی انہوں نے کی وہ یہ کہ اُس سے قوی تر روایات زیادہ مسند کتب میں ایسی موجود تھیں جو ان لغو روایات کو کلیہ رد کرتی تھیں, قرآن کریم کی تعلیم اور قرآن کریم میں واضح نصوص اور آیات ایسی موجود تھیں جن کی روشنی میں کوئی دیانتدار محقق ان بیہودہ اور لغو روایات کو نگاہ میں نہیں لا سکتا تھا جو سینکڑوں سال بعد اکٹھی ہوئیں اور جن کے اکثر راوی بالکل جھوٹے تھے اور اسلامی محققین نے جو تحقیقات کیں اسماء الرجال کے سلسلے میں اس میں اُن کا جھوٹ ، اُن کا خبث ، اُن کا منافق ہونا اور اُن کا بدکار ہونا اس قسم کی بہت سی باتیں اُن کتب میں موجود تھیں جو یہ پڑھتے تھے اور جانتے تھے۔کیونکہ بڑے بڑے لائق اور قابل آدمی اس پہلو سے موجود تھے کہ انہوں نے اسلامی کتب کی خوب ورق گردانی کی لیکن وہی چیز چینی جو اسلام کے خلاف حملے کے طور پر استعمال ہو سکتی تھی اور بظاہر دیانتداری کا ایک لبادہ اوڑھا لیکن در حقیقت یہ ایک انتہائی بد دیانت تصنیفی کوشش تھی یا تحقیقی کوشش تھی