خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد ۸ 111 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء سلمان رشدی کی کتاب پر رد عمل پر تبصرہ نیز حضور کی عالم اسلام اور مذاہب عالم کو نصائح ( خطبه جمعه فرموده ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت تلاوت کی: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدْوا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّتُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) (الانعام: ۱۰۹) آج کے خطبے میں میں سلمان رشدی کی شیطانی کتاب کے متعلق احباب جماعت کو صورت حال سے مطلع کرنا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں وہ لائحہ عمل بھی پیش کروں گا جو اسلامی تعلیم کی رو سے مسلمانوں کو ایسی صورت حال سے نپٹنے کے لئے اختیار کرنا چاہئے۔اس کتاب کا پس منظر کیا ہے؟ پہلی نظر تو فوری پس منظر پر جاتی ہے اور جیسا کہ مختلف صائب الرائے دوستوں نے ، لوگوں نے اظہار کیا ہے۔یہ کتاب کوئی انفرادی خباثت نہیں بلکہ اس کے پیچھے اسلام کے خلاف سازش کارفرما نظر آتی ہے لیکن اس سے بھی دور کے پس منظر میں اس سازش کی جڑیں پیوستہ ہیں اور بات وہاں سے شروع ہونی چاہئے۔اس زمانے کا مستشرق ایک تہذیب کی ملمع کاری کے پردے میں اسلام پر اب اس رنگ میں حملے کرتا ہے کہ جس سے تہذیبی دائروں کو پامال کئے بغیر وہ اسلام پر چر کے لگاتا رہے اور معصومیت اور نادانی میں بہت سے مسلمان