خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 105

خطبات طاہر جلد ۸ 105 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۹ء کیونکہ ایک مبلغ عربی کے گہرے مطالعہ کے بغیر اور اس کے باریک در بار یک مفاہیم کو سمجھے بغیر قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے پوری طرح استفادہ نہیں کر سکتا اس لئے بچپن ہی سے عربی زبان کے لئے بنیاد قائم کرنی چاہئے اور جہاں ذرائع میسر ہوں اس کی بول چال کی تربیت بھی دینی چاہئے۔قادیان اور ربوہ میں ایک زمانے میں یعنی جب ہم طالب علم تھے عربی زبان کی طرف تو توجہ تھی لیکن بول چال کا محاورہ نہیں سکھایا جاتا تھا یعنی تو جہ سے نہیں سکھایا جاتا تھا اس لئے اس کا بھی ایک نقصان بعد میں سامنے آیا۔آج کل یہ رواج ہے کہ بول چال سکھائی جارہی ہے لیکن زبان کے گہرے معانی کی طرف پوری توجہ نہیں کی جاتی اس لئے بہت سے عرب بھی ایسے ہیں اور تجارت کی غرض سے عربی سیکھنے والے بھی ایسے بہت سے غیر ملکی ہیں جو زبان بولنا تو سیکھ گئے ہیں لیکن عربی کی گہرائی سے ناواقف ہیں اور اس کی گرائمر پر عبور نہیں ہے۔پس اپنی واقفین نونسلوں کو ان دونوں پہلوؤں سے متوازن تعلیم دیں۔عربی کے بعد اردو بھی بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی کامل غلامی میں اس زمانے کا جو امام بنایا گیا ہے اس کا اصل لٹریچر اردو میں ہے اور وہ لٹریچر کیونکہ خالصۂ قرآن اور حدیث کی تفسیر میں ہے اس لئے عرب پڑھنے والے بھی جب آپ کے عربی لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کی کیسی گہری معرفت اس انسان کو حاصل ہے کہ جو ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی جو مادری لحاظ سے عربی زبان سیکھنے اور بولنے والے ہیں۔چنانچہ ہمارے عربی مجلہ التقویٰ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو اقتباسات شائع ہوتے ہیں ان کو پڑھ کر بعض غیر احمدی عرب علماء کے ایسے عظیم الشان تحسین کے خط ملتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔بعض ان میں سے مفتیوں کے بیٹے ہیں اس عظمت کے آدمیوں کے بیٹے ہیں جن کو دین پر عبور ہے اور دین میں معروف مفتی ہیں ان کا نام لینا یہاں مناسب نہیں لیکن انہوں نے مجھے خط لکھا کہ ہم تو حیران رہ گئے ہیں یہ دیکھ کر اور بعض عربوں نے کہا کہ ایسی خوبصورت زبان ہے، ایسی دلکش عربی زبان ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کہ ایک شخص نے کہا کہ میں بہت شوقین ہوں عربی لٹریچر کا مگر آج تک اس عظمت کا لکھنے والا میں نے کوئی عرب نہیں دیکھا۔پس عربی کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اردو لٹریچر کا مطالعہ بھی ضروری ہے اور بچوں کو اتنے معیار کی اُردو سکھانی ضروری ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اردو لٹر پچر سے