خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 106

خطبات طاہر جلد ۸ 106 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۹ء براہ راست فائدہ اُٹھا سکیں۔جہاں تک دنیا کی دیگر زبانوں کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے اکثر اہم ممالک میں ایسی احمدی نسلیں تیار ہورہی ہیں جو مقامی زبان نہایت شستگی کے ساتھ اہل زبان کی طرح بولتی ہیں اور یہاں ہالینڈ میں بھی ایسے بچوں کی کمی نہیں ہے جو باہر سے آنے کے باوجود ہالینڈ کی زبان ہالینڈ کے باشندوں کی طرح نہایت شستگی اور صفائی سے بولنے والے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ ان کا اردو کا معیار ویسا نہیں رہا۔چنانچہ بعض بچوں سے جب میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ ہالینڈی زبان میں تو بہت ترقی کر چکے ہیں لیکن اردو زبان پر عبور خاصہ قابل توجہ ہے۔یعنی عبور حاصل نہیں ہے اور معیار خاصہ قابل توجہ ہے۔پس آئندہ آپ نے واقفین نسلوں کو کم سے کم تین زبانوں کا ماہر بنانا ہوگا۔عربی ، اردو اور مقامی زبان۔پھر ہمیں انشاء اللہ آئندہ صدی کے لئے اکثر ممالک میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی تعلیم پیش کرنے والے بہت اچھے مبلغ مہیا ہو جائیں گے۔آئندہ جماعت کی ضروریات میں بعض انسانی خلق سے تعلق رکھنے والی ضروریات ہیں جن کا میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا اور اب دوبارہ اس پہلو پر زور دینا چاہتا ہوں۔پس واقفین بچوں کے اخلاق پر خصوصیت سے توجہ کی ضرورت ہے انہیں خوش اخلاق بنانا چاہئے۔ایک تو اخلاق کا لفظ ہے جو زیادہ گہرے خصائل سے تعلق رکھتا ہے اس کے متعلق میں پہلے کئی دفعہ بات کر چکا ہوں لیکن ایک اخلاق کا معنی عرف عام میں انسان کی میل جول کی اس صلاحیت کو کہتے ہیں جس سے وہ دشمن کم بناتا ہے اور دوست زیادہ۔کوئی بد مزاج انسان اچھا واقف زندگی ثابت نہیں ہو سکتا اور کوئی خشک مزاج انسان ملاں تو کہلا سکتا ہے صحیح معنوں میں روحانی انسان نہیں بن سکتا۔ایک دفعہ ایک واقف زندگی کے متعلق ایک جگہ سے یہ شکائتیں ملیں کہ یہ بدخلق ہے اور ترش روئی سے لوگوں سے سلوک کرتا ہے۔جب میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے یہ جواب دیا کہ سب جھوٹ بولتے ہیں۔میں تو بالکل درست اور صحیح چل رہا ہوں اور ان کی خرابیاں ہیں جب توجہ دلاتا ہوں تو پھر آگے سے غصہ کرتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ خرابیوں کی طرف سب سے زیادہ توجہ تو حضرت محمد مصطفی عملے نے دلائی تھی اور جتنی دوری اُس دنیا کے لوگوں کی آپ سے تھی اس کا ہزارواں حصہ بھی جماعت احمدیہ کے نوجوان آپ سے فاصلے پر نہیں کھڑے۔آنحضرت علی کامل طور پر معصوم تھے اور آپ خود اپنے اندر کچھ خرابیاں رکھتے ہیں جن سے حضور اکرم ﷺے مخاطب تھے جو تمام برائیوں کی آماجگاہ تھے مگر یہ