خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 98

خطبات طاہر جلد ۸ 98 خطبه جمعه ارفروری ۱۹۸۹ء نہیں ہوا۔بیسیوں مرتبہ پہلے ہو چکا ہے اور اس کے نتیجے میں بعض دفعہ بڑے بڑے فتنے پیدا ہوئے ہیں اور ایک شخص سمجھتا ہے کہ میں نے خوب چالا کی کی ہے خوب انتقام لیا ہے۔اس طرح تحریک جدید نے مجھ سے کیا اور اس طرح پھر میں نے اُس کا جواب دیا۔اب دیکھ لو میرے پیچھے کتنا بڑا گروہ ہے اور یہ نہیں سوچا وہ گروہ اُس کے پیچھے نہیں تھا وہ شیطان کے پیچھے تھا۔وہ بجائے متقیوں کا امام بننے کے وہ منافقین کا امام بن گیا ہے اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کیا اور اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی ہلاک کیا۔پس یہ چھوٹی چھوٹی باتیں سہی لیکن غیر معمولی نتائج پیدا کرنے والی باتیں ہیں۔بچپن سے ہی اپنے واقفین نوکو یہ باتیں سمجھا ئیں اور پیار اور محبت سے اُن کی تربیت کریں تا کہ وہ آئندہ صدی کی عظیم لیڈرشپ کے اہل بن سکیں۔بہت سی باتوں میں سے اب وقت تھوڑا ہے کیونکہ میں نے سفر پہ بھی جانا ہے۔ایک بات میں آخر یہ یہ کہنی چاہتا ہوں ان کو وفاسکھائیں۔وقف زندگی کا وفا سے بہت گہرا تعلق ہے۔وہ واقف زندگی جو وفا کے ساتھ آخری سانس تک اپنے وقف سے نہیں چمٹتا وہ جب الگ ہوتا ہے تو خواہ جماعت اُس کو سزا دے یا نہ دے وہ اپنی روح پر غداری کا داغ لگا لیتا ہے اور یہ بہت بڑا داغ ہے۔اس لئے آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اپنے بچوں کو وقف کرنے کا یہ بہت بڑا فیصلہ ہے اس فیصلے کے نتیجے میں یا تو یہ بچے عظیم اولیاء بنیں گے یا پھر عام حال سے بھی جاتے رہیں گے اور ان کو شدید نقصان پہنچنے کا بھی احتمال ہے۔جتنی بلندی ہو اتنا ہی بلندی سے گرنے کا خطرہ بھی تو بڑھ جایا کرتا ہے۔اس لئے بہت احتیاط سے ان کی تربیت کریں اور ان کو وفا کے سبق دیں۔بار بار سبق دیں۔بعض دفعہ واقفین ایسے ہیں جو وقف چھوڑتے ہیں اور اپنی طرف سے چالاکی کے ساتھ چھوڑتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب ہم جماعت کی حد سے باہر نکل گئے ، اب ہم آزاد ہو گئے اور اب ہمارا کچھ نہیں کیا جاسکتا۔وہ چالا کی تو ہوتی ہے لیکن عقل نہیں ہوتی۔وہ چالا کی سے اپنا نقصان کرنے والے ہوتے ہیں۔ابھی کچھ عرصہ پہلے میرے سامنے ایک ایسے واقف کا معاملہ آیا جس کی ایسے ملک میں تقرری تھی اگر وہاں ایک معین عرصہ تک وہ رہے تو وہاں کی نیشنیلٹی کا حقدار بن جاتا تھا اور بعض وجوہات سے میں نے اُس کا تبادلہ ضروری سمجھا۔چنانچہ جب میں نے اُس کا تبادلہ کیا تو چھ یا سات ماہ ابھی باقی تھے یعنی اُس مدت میں باقی تھے جس کے بعد وہ حقدار بنتا تھا۔اُس کے بڑے لجاجت سے اور محبت اور خلوص کے خط آنے شروع ہوئے کہ مجھے کچھ مزید مہلت دے دی جائے یہاں قیام کی اور میں نے وہ مہلت