خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 5

خطبات طاہر جلد ۸ 5 خطبہ جمعہ ۶ / جنوری ۱۹۸۹ء یہ تمہارے لئے کوئی انجام نہیں ہے یہ تمہارے لئے نئی پیدائش کا دن ہوگا۔تم خدا کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جس طرح خدا تعالیٰ اپنی طرف لوٹائے جانے والی چیزوں کو بڑھایا کرتا ہے تمہیں بھی نئی خلق عطا ہوگی جو زیادہ وسیع ہوگی پہلے سے۔ہر پہلو سے وہ زیادہ شاندار اور زیادہ لطیف ہوگی اور جو کچھ تم قانون قدرت کو اپنے وجود کے طور پر واپس کرو گے اُسے خدا تعالیٰ بہت بڑھا کر اور نشو ونما دے کر پھر ظاہر فرمائے گا۔دوسرا معنی اس آیت کے اس حصے کا یہ ہے کہ جو کچھ تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ ساری جزا تمہیں اس دنیا میں مل جاتی ہے۔اس دنیا میں بھی ضرور جز املتی ہے اور خدا کی راہ میں مالی قربانی کرنے والوں کو بہت بڑھا کر عطا کیا جاتا ہے لیکن اگلی دنیا میں بھی تمہارے لئے یہ خزانے جمع ہورہے ہیں۔اگر انسان کسی ایسی جگہ خزانے بھجوا دے جہاں خود نہ پہنچ سکتا ہو تو وہ خزانے اُس کے ہاتھ سے ضائع گئے ، وہ ہمیشہ کے لئے کھوئے گئے۔تو آیت کا یہ حصہ انسان کو یقین دلاتا ہے کہ تمہاری امانت جہاں پہنچ رہی ہے وہاں تم بھی جانے والے ہو اور جو کچھ تم بھیجو گے وہ اس کو بھیجے ہوئے کی نسبت ہزاروں ، لاکھوں، کروڑوں بلکہ انگنت گنا زیادہ اُس دنیا میں پاؤ گے جس میں آخر تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔تو یہ چھوٹی سی آیت بہت وسیع مطالب اپنے اندر رکھتی ہے اور مالی قربانی کا فلسفہ ہمیں سمجھاتی ہے۔صرف مالی قربانی کا نہیں بلکہ دیگر قربانیوں کا فلسفہ بھی سمجھاتی ہے۔ہم خدا کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں یقین کریں کہ ہر چیز جو ہم خرچ کرتے ہیں اُسے برکت دی جائے گی، اُسے بڑھایا جائے گا اور واپس ہمیں لوٹایا جائے گا۔یعنی ہم تو خدا کی طرف لوٹیں گے مگر خدا ہر چیز جو ہم خدا کی طرف بھیجتے ہیں ہماری طرف لوٹاتا چلا جائے گا۔اس پہلو سے نئی صدی کے حالات کے ساتھ بھی اس مضمون کا تعلق ہے۔جو کچھ خدا نے ہمیں دیا وقت دیا ، عزتیں دیں، اموال دیئے ، جانیں عطا فر ما ئیں۔کئی قسم کی سہولتیں ہمیں بخشیں۔آغاز میں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت باوجود اس کے کہ جماعت بہت چھوٹی اور بہت کمزور تھی اور بہت غریب تھی اور اُن کے پاس بچت کی نسبت بہت تھوڑی تھی۔ایسے حالات تھے کہ اکثر احمدی بمشکل زندہ رہنے کے لئے گزارے پا رہے تھے۔بہت کم تھے جو غیر معمولی طور پر متمول شمار ہو سکتے ہوں لیکن انہوں نے اپنے اموال بھی دیئے خدا کی راہ میں اپنی عزتیں بھی قربان کیں، اپنے تعلقات، اپنی دوستیاں، اپنی رشتہ داریاں کوئی ایسی چیز جس کی انسان