خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 185

خطبات طاہر جلدے 185 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء پہلے سے سچا دیکھتا چلا جائے اور ہم پورے اخلاص کے ساتھ سچائی کی راہوں میں آگے قدم بڑھاتے رہیں یہ ممکن ہے لیکن اس کے مقابل پر جب ان لوگوں کو دیکھا جائے جو واضح جھوٹ بولتے ہیں، کھلم کھلا جھوٹ بولتے ہیں، افترا کرتے ہیں، اپنے ادنی مفادات کی خاطر فورا جھوٹے بہانے تراشتے ہیں تو دل دہل جاتا ہے اور انسان حیران ہوتا ہے کہ اگر سچائی اور جھوٹ کا ہی جھگڑا تھا تو ہم اس حالت میں پھر قوم کو کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو چکے ہو اور ہم بچے۔اس لئے جس کو ہم سچا کہتے ہیں وہی سچا شمار ہو گا جس کو تم جھوٹا کہتے ہو وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا کیونکہ تم خود جھوٹے ہو۔یہی ہے آخری خلاصہ ہمارے جہاد کا ، اسی کے اوپر بات طے ہوئی ہے۔اسی کے نتیجے میں یوم فرقان ظاہر ہوگا۔اس لئے احمدیوں کو اپنی سچائی کی حفاظت کی طرف پہلے سے بہت زیادہ توجہ کرنی چاہئے لیکن عجیب حالت ہے انسان کی کہ غفلت کی حالت میں دن گزارتا ہے اور جب وہ جھوٹ بول رہا ہوتا ہے اپنے دفاع میں تو بسا اوقات اس شدت کے ساتھ اس پر قائم ہوتا ہے گویاوہ سچا ہے اور اس کو جھوٹا کہنے والا ایک ظالم ہے۔وہ کہتا ہے اچھا مجھے تم جھوٹا کہہ رہے ہو تم ہوتے کون ہے۔اتنی بیوقوفی کی حالت ہے انسان کی بعض صورتوں میں کہ وہ اپنے بنائے ہوئے جھوٹ کا بھی غلام بن جاتا ہے اور Behave اس طرح کرتا ہے، رد عمل اس طرح دکھاتا ہے گویا واقعہ سچا ہے۔چنانچہ جب میرے پاس بعض مقدمے، بڑے کم آتے ہیں لیکن جتنے بھی آئیں ان میں بعض لوگ اسی طرح اپنے جھوٹ کے اوپر بڑی شدت کے ساتھ قائم ہو کر مطالبے کر رہے ہوتے ہیں۔ایک صاحب کا میں نے ذکر کیا تھا پہلے بھی شاید کہ مجھے وہ لکھ رہے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ ساری زندگی میں نے جھوٹ نہیں بولا حالانکہ میں جانتا ہوں کہ ساری زندگی شاید ہی انہوں نے سچ بولا ہو اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ مجھ سے کہا جس کا مطلب ہے وہ اپنے جھوٹ کے شکار ہو چکے ہیں ان کو پتا ہی نہیں کہ ان کی حالت کیا ہے۔ایسی صورت میں بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے کام لیکن اپنے گردو پیش کی حفاظت کرنی چاہئے نصیحت سے کام لینا چاہئے۔سب سے اہم بات بنیادی طور پر جھوٹ کے معاملے میں یہ پیش نظر رکھنی چاہئے کہ جب بھی انسان کوئی غلطی کرتا ہے اور وہ غلطی پکڑی جاتی ہے تو پہلا رد عمل انسان کا یہ ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔اب جھوٹے کئی قسم کے ہیں۔بعض تو پھر وہ بہانے بناتے ہیں، اپنے نفس میں سوچتے ہیں یہ یوں نہیں یوں ہے۔اگر یہ کہوں گا تو بات مانی جائے گی مجھے شاید جھوٹ بھی نہ زیادہ بولنا پڑے لیکن دوسر سمجھ جائے گا کہ ہاں اس لئے اس نے ایسا کیا ہو گا۔چنانچہ جو نسبتا سچے لوگ ہیں وہ اس قسم کے بہانے تراشتے ہیں اور اگر وہ خود تجزیہ کر کے دیکھیں تو ان کو پتا چلے گا کہ وہ بہانہ شروع سے ہی جھوٹا ہے۔سیدھی طرح جرات ہونی چاہئے یہ کہنے کی ہاں ہم سے غلطی ہوئی ہے۔