خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 92
خطبات طاہر جلدے 92 خطبه جمعه ۱۹؍ فروری ۱۹۸۸ء نے یہاں آنے سے پہلے قائم کیا ہوا تھا وہ یہاں آنے کے بعد ڈرامائی طور پر بدل گیا ہے اور بنیادی طور پر اس میں یکسر تبدیلی ہوگئی ہے کیونکہ میں یہاں پر موجود رہ کر آپ کو انتہائی قریب سے دیکھ رہا ہوں اور آپ سے باتیں کر رہا ہوں اور ان مسائل سے آگاہی حاصل کر رہا ہوں جو آپ کو در پیش ہیں۔اس حوالہ سے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ دورہ بہت ہی مفید رہا ہے۔میں نے افریقہ اور افریقہ کے کردار کے بارہ میں بہت سی اچھی باتیں معلوم کی ہیں۔میں نے نائیجیریا اور نائیجیرین کردار کے بارہ میں بھی بہت سی اچھی باتیں دریافت کی ہیں اور اس دریافت سے میں بہت خوش ہوں لیکن میں نے چند غلط باتوں کا بھی مشاہدہ کیا ہے جس سے مجھے تکلیف پہنچی ہے جس کے بارہ میں مستقبل میں بہت فکر مند ہوں لیکن نا امید بالکل نہیں۔پس میں مختصراً آپ سے ان باتوں کے بارہ میں گفتگو کروں گا تا میں آپ کو آپ کے ملک اور اس براعظم کے بارہ میں آپ کی ذمہ داریاں یاد دلاؤں۔دوانتہائی اہم چیزیں جو میں نے افریقہ کے متعلق دریافت کی ہیں:۔نمبر ایک یہ کہ افریقی لوگ بہت کشادہ ذہن کے ہیں۔وہ عقیدہ کے لحاظ سے کشادہ ذہنی سے کام لیتے ہیں اور تعصب نہیں رکھتے۔وہ تنگ ذہن نہیں رکھتے اور جب آپ ان سے دلیل اور حکمت کے ساتھ بات کریں تو وہ ہمیشہ اس کو قبول کرتے ہیں اس حوالہ سے افریقی ممالک دوسرے تمام ممالک سے ممتاز ہیں جن کا میں نے اب تک دورہ کیا ہے۔پس وہ لوگ جو آپ کو تاریک براعظم کے لوگ گردانتے ہیں اور کم ذہین لوگ سمجھتے ہیں وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں۔آپ روشن لوگ ہیں جن کو بصیرت عطا کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دانائی عطا کی ہے۔اللہ نے آپ کو یہ صلاحیت ودیعت کی ہے کہ آپ صحیح کو غلط سے ممتاز کر سکیں۔آپ صرف روشن خیال ہی نہیں ہیں بلکہ آپ زندگی کے ہر شعبہ میں لوگوں کے فائدہ کیلئے ترقی کے سامان بھی کر سکتے ہیں۔انشاء اللہ جو لوگ دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو صحیح کو غلط سے ممتاز کر سکتے ہیں جو کھری کھری باتیں کر سکتے ہیں تو ان کی یہ استعدادیں ان کے روشن اور بہتر مستقبل پر دلالت کرتی ہیں۔دوسری خوبی افریقی کردار کی جس نے مجھے بہت ہی متاثر کیا ہے وہ افریقہ کا صبر قتل ہے۔وہ ایسے صابر ہیں کہ جس قدر ملکوں کا میں نے دورہ کیا ہے میں نے صبر کو ان کا علامتی نشان پایا