خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 90
خطبات طاہر جلدے 90 90 خطبه جمعه ۱۲ رفروری ۱۹۸۸ء ہے جو جرمنی اور سوئٹرز لینڈ اور یورپ کے بعض دیگر ممالک سے روپیہ کما کر اپنے ملکوں کو بھیجتے ہیں یہی حال چیکوسلواکیہ کے مزدوروں کا ہے، یہی حال یوگوسلاویہ کے مزدوروں کا ہے، یہی حال مرا کو کے مزدوروں کا ہے، یہی حال الجیریا کے مزدوروں کا ہے۔دنیا کی جتنی قو میں میں نے دیکھیں وہ یورپ میں آکر یا امریکہ جا کر روپیہ کما تیں اور واپس اپنے ملکوں کوبھیجتیں ہیں لیکن یہ بدنصیبی اور بد قسمتی صرف افریقہ کے حصہ میں دیکھی ہے کہ یہاں کے لوگ نہ صرف باہر کاروپیہ باہر رکھتے ہیں بلکہ خود اپنے ملک کا روپیہ بھی یہاں سے نکال کر باہر منتقل کر رہے ہیں۔پس فی الحقیقت اگر آپ آزادی کی تمنا رکھتے ہیں، اگر فی الحقیقت آپ ان آزاد قوموں کی صف میں شمار ہونا چاہتے ہیں جو تاریخ پر اپنے نام ثبت کر دیا کرتی ہیں تو پہلے اپنے نفسوں کو آزاد کریں اپنے رجحانات کو آزاد کریں، اپنے آپ کو مغربی تہذیب و تمدن کے رعب سے آزاد کریں اس کے بغیر افریقہ کی آزادی ممکن نہیں ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمام دنیا کی جماعتیں اس معاملہ میں آپ کی مدد کریں گی اور اس بارہ میں میں ان کی تفصیلی رہنمائی کروں گا کہ کس طرح افریقن کے ضمیر کو جھنجھوڑ کے بیدار کرنا ہے اور کس طرح سارے ملکوں میں یہ مہم چلانی ہے کہ جاؤ اپنے ملک کو جاؤ ، وہاں کے غریبوں کے حال کو دیکھو تمہاری آنکھیں جو یہاں کے ناچ گانوں کی مسرت میں پاگل ہوئی ہوتی ہیں اور اندھی ہو چکی ہیں۔جائیں اور اپنے غریبوں کی حالت پر جا کر آنسو بہانا سیکھیں۔اسی میں زندگی ہے اور اسی میں آپ کا مستقبل ہے۔غلامی کی یہ بھیانک رات جو صدیوں سے آپ کے ملکوں پر طاری ہے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جماعت احمد یہ اس رات سے نجات دلانے میں ہر ممکن آپ کی مدد کرے گی، ہر لحاظ سے اس میں کوشش کرے گی لیکن جب تک آپ کے دلوں میں روشنی پیدا نہ ہو اس وقت تک یہ تاریکی کی راتیں دنوں میں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔