خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 85

خطبات طاہر جلدے 85 خطبه جمعه ۱۲ رفروری ۱۹۸۸ء کارگر ثابت نہ ہوئے تو یہ آخری حربہ روحوں کی آزادی کے نام پر ان کے غلام بنانے کا حربہ بہت کام آیا اور سب سے زیادہ اس مظلوم قوم کو اس غلامی کے چنگل میں جکڑنے میں یوروپین قو میں کامیاب ہو گئیں۔ اس ملک کی تاریخ میں اس صدی کے آغاز پر ایک اور سلسلہ رونما ہوا وہ بھی ایک باہر سے آنے والی قوم سے تعلق رکھتا تھا یعنی جماعت احمدیہ سے۔ جماعت احمد یہ بھی یہی دعوے لے کر آئی کہ ہم تمہاری روحوں کو آزاد کرنا چاہتے ہیں تمہیں ابدی زندگی کا پیغام دینا چاہتے ہیں تمہاری تعلیم کے لئے جدو جہد کریں گے اور تمہارے بدنوں کی صحت کے لئے بھی ہر ممکن کوشش کریں گے لیکن ان دونوں تاریخ ساز مہمات میں اگر بنظر غور دیکھیں تو زمین و آسمان کا فرق دکھائی دے گا۔ جماعت احمدیہ کے ساتھ نہ تیز و تفنگ آئے ، نہ تلواریں اور تو ہیں۔ کوئی مملکت اپنے سایہ تلے جماعت احمد یہ کو لے کر آگے بڑھنے کے لئے نہیں آئی۔ جماعت احمد یہ غریبوں کی جماعت بن کر یہاں آئی لیکن روحانی دولت بخشتی رہی تعلیم کی دولت بخشتی رہی ، جسموں کی صحت کے لئے کوشاں رہی اور اس کے بدلہ ایک آنہ یا ایک دمڑی کی بھی ملکی دولت کو یہاں سے لے کر باہر کے ملکوں میں نہیں بھجوایا۔ جماعت احمد یہ کے ساتھ ان تاجروں کے گروہ نہیں آئے جو کوڑیوں کے دام آپ کے ملک کا سونا لے کر اپنے ملک کی زینت کو بڑھاتے رہے بلکہ جماعت احمدیہ کی تاریخ اس سے بالکل مختلف نظارے پیش کرتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ۱۹۲۱ء اور ۱۹۲۲ ء کا زمانہ جبکہ قادیان کی غریب بستی میں جماعت احمدیہ کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے کہ وہ اپنے مبلغوں کو مسلسل تنخواہ دے سکیں اور بعض دفعہ کئی کئی مہینے اس غربت کی وجہ سے ان کو فاقوں پر گزارا کرنا پڑتا تھا اس کے باوجود جب مصلح موعودؓ نے تمام جماعت کو افریقہ کی آزادی کی جدوجہد کے لئے بلایا اور اس بات کی طرف بلایا کہ مالی قربانیاں اور جسمانی قربانیاں اور اپنی روح اور نفس کی قربانیاں پیش کرو تا کہ ان مظلوم قوموں کی آزادی اور خصوصاً روحانی آزادی کے لئے سامان پیدا کر سکو تو سارے ہندوستان کی جماعت نے بیک آواز لبیک کہتے ہوئے بے شمار زندگیاں اس خدمت دین کے لئے پیش کیں ، اس خدمت انسانی کے لئے پیش کیں اور اس غریب جماعت کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ سب کچھ افریقہ کی خدمت کے لئے پیش کر دیا۔ جماعت احمدیہ کے ابتدائی مبلغین کو جن مشکلات کا سامنا تھا آج آپ ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ تمام دنیا کی عظیم الشان حکومتوں کی طاقتیں اور چرچ کی بے شمار دولتیں ان کے مقابل پر