خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 885 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 885

خطبات طاہر جلدے 885 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۸ء یہ ہے وہ مضمون جو خوف کے وقت صبر یعنی اللہ صبر کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔اگر آپ خوف سے اللہ کی خاطر صبر کرتے ہیں تو لازماً آپ کو ایک اندرونی عرفان نصیب ہوگا۔آپ یہ محسوس کریں گے کہ یہ خوف اگر غالب آجائے تو میں کچھ نہیں کر سکتا مگر میں اللہ کی خاطر اس خوف کو اپنے نفس پر، اپنی روح پر غالب نہیں آنے دوں گا۔یہ نقصان پہنچا سکتا ہے تو میرے جسم کو پہنچا سکتا ہے لیکن اس خوف سے میں مرعوب نہیں ہوں گا کیونکہ خدا کے سوا میں کسی سے مرعوب ہونے والی چیز نہیں ہوں، میں خدا کی پناہ میں آتا ہوں۔اس حالت سے خوف آپ پر جب غلبہ نہیں کر سکتا تو آپ کے اندر سے ایک نئی عظمت پیدا ہوتی ہے۔الہی صفات آپ کے اندر جلوہ گر ہوتی ہیں، آپ خدا کو اپنے قریب محسوس کرتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت آپ کا بگاڑ نہیں سکتی۔لاحول ولا قوۃ کا مضمون آپ کے ضمیر کے اندر روشنی بن کر ابھرتا ہے۔یعنی صرف ایک ورد نہیں ہے جو زبان پر جاری ہو اس کی روشنی آپ اپنے ضمیر کے اندر محسوس کرتے ہیں کہ کوئی خوف خدا کے سوا ہے ہی نہیں اور اگر کوئی قوت ہے تو صرف خدا کی قوت ہے۔اس کے نتیجے میں آپ پھر اِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ کا وعدہ پورا ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔پھر نقصان کے وقت کا خوف ہے، جان کا نقصان ہو یا مال کا نقصان ہو بعض لوگ واویلا شروع کر دیتے ہیں ، بعض عورتیں ہیں روتی ہیں، پیٹتی ہیں کہتی ہیں ہمیں صبر نہیں آسکتا۔بعض بچیوں کی مائیں چلی جاتی ہیں ایسی حالت میں، ایسے نازک موڑ میں جبکہ ان کو بڑا گہرا نفسیاتی نقصان پہنچ جاتا ہے۔وہ بھتی رہتی ہیں کہ ہم اس صدمے کو بھول نہیں سکتے لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ بات بتاتی ہے کہ انہوں نے اللہ صبر کی کوشش ہی نہیں کی۔اگر ایک انسان کے ہاتھ سے کوئی چیز جاتی رہی ہے تو اس وقت انسان کو اپنی بے بضاعتی اور بے حیثیتی کا علم پہلے ہونا چاہئے۔ہر نقصان انسان کو یا انکسارسکھا سکتا ہے یا اس کے اندر نظم و ضبط کی جتنی طاقتیں ہیں ان کو تو ڑ کر فنا کر سکتا ہے۔اگر نقصان انسان کو انکسار سکھاتا ہے تو یہ انکسار انسان کو خدا کی طرف لے جاتا ہے۔اگر اس کے ضبط و حمل کی طاقتوں کو توڑ کر پارہ پارہ کر دیتا ہے تو سوائے بربادی کے کچھ بھی پیچھے نہیں چھوڑتا۔ہر ظاہری نقصان کے ساتھ ایک اندرونی نقصان کا عکس پیدا ہوا کرتا ہے۔قرآن کریم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اپنے ظاہری نقصان کو اپنے اندرونی نقصان میں تبدیل نہ ہونے دو اور یہی صبر اللہ کا مطلب ہے۔اگر ایک انسان کا بچہ ضائع