خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 84
خطبات طاہر جلدے 84 خطبه جمعه ۱۲ رفروری ۱۹۸۸ء اس قلعہ میں منتقل کیا جاتا تھا۔اس قلعہ میں اس سرنگ کا ایک کنارہ کھلتا ہے لیکن اوپر تک سیٹرھیاں نہیں بنی ہوئیں اس لئے اُن مظلوم غلاموں کو زنجیروں سے لٹکا کر اوپر کھینچا جاتا تھا اس سے چند قدم کے فاصلہ پر ایک ایسی Dungeon یعنی غار نما جیل خانہ بنا ہوا ہے جہاں بمشکل ہیں بچھپیں آدمی شریفانہ طور پر رہ سکتے ہیں لیکن Dungeon میں دو دو سوغلاموں کو بیک وقت ٹھونس دیا جاتا تھا۔اس وقت تک وہ نہایت ہی دردناک ، نا قابل بیان حالت میں Dungeon میں قید رکھے جاتے تھے جتک کہ کوئی سمندری کشتی جو غلاموں کے کاروبار کے لئے استعمال کی جاتی تھی وہاں پہنچ کر ان کو اس ملک سے دوسری غلام منڈیوں کی طرف منتقل کرنے کے لئے نہ پہنچ جائے۔پس ایک طرف تو ساری قوم کو غلام بنانے کے لئے ایک آزادانہ جد و جہد جاری تھی۔دوسری طرف خفیہ طور پر ملک کے باشندوں کو ہمیشہ کے لئے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر ساری زندگی نہایت ہی درد ناک طریق پر ان کے کام لینے کے لئے غیر ملکوں میں بیچا جاتا تھا۔پس جہاں جہاں یہ غلامی کا کاروبار جاری ہوا رفتہ رفتہ سارا ملک غلامی کے اندھیرے تلے ڈوب گیا لیکن عجب تضاد یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ سفید فام پادری سارے ملک کو ان کی روحوں کی آزادی کا پیغام دیتے ہوئے ملک میں جگہ جگہ پھر رہے تھے۔بظاہر یہ ایک بہت ہی خوفناک تضاد ہے کہ جسموں کو غلام بنانے والے روحوں کو کیسے آزاد کرا سکتے ہیں لیکن جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ روحوں کی آزادی کی خاطر وہ یہاں نہیں آئے تھے بلکہ بدنوں کی طرح روحوں کو بھی غلام بنانے کے لئے یہاں پہنچے تھے۔یہی وہ حکمت عملی ہے جو یوروپین اقوام نے دنیا میں ہر قوم کے ساتھ اختیار کی یعنی ایک طرف تو ان کے بدنوں کو غلام بنایا گیا، اس کی سیاست کو غلام بنایا گیا، ان کی معیشت کو غلام بنادیا گیا، ان کے معاشرے کو غلام بنایا گیا اور دوسری طرف روحوں کی آزادی کے نام پر ہمیشہ کے لئے ان کی روحوں کو بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔اس دور میں جبکہ جدو جہد جاری تھی اس ملک کی ایک آزاد منش پر اٹھا کر چلنے والی قوم جو آشانٹی قوم کے نام سے مشہور ہے مسلسل یورپین اقوام سے آزادی کے خلاف جدوجہد کرتی رہی۔اس قوم کو سب سے زیادہ مظالم کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی روایتی شان کو ان سے چھیننے کے لئے اور ان کو سر جھکانے کے لئے ہر قسم کے ظالمانہ حربے استعمال کئے گئے لیکن جب دوسرے حربے پوری طرح