خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 878 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 878

خطبات طاہر جلدے 878 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء بہن کو قتل کیا، اپنے بھائی کو قتل کیا ، اپنے باپ پر حملہ آور ہو اور اب وہ پھانسی کی کوٹھری میں منتظر پڑا ہے پتا نہیں کب اس کو پھانسی ہوئی بھی ہے کہ نہیں لیکن اس قید کی حالت سے اس کے مجھے بھی خط آتے رہے اور ایک مسلسل جہنم میں مبتلا ہے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ جہنم صرف یہیں تک محدودرہے گی یا آگے تک بھی جائے گی۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن وہ وقت ایسا تھا چند لمحوں کا جس میں اشتعال نے ہر اس ضبط کے پہرے کو تو ڑ دیا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کو مختلف قسم کے خطرات اور مصائب سے بچانے کے لئے عطا ہوئے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہماری ہر حالت کے اوپر کچھ پہریدار عطا فرمائے ہوئے ہیں اور جو ہماری حفاظت کرتے ہیں۔صبر ٹوٹنے سے اچانک یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارا حفاظتی نظام ٹوٹ گیا ہے۔انسانی آرزؤں اور تمناؤں اور خواہشات اور جن چیزوں سے بھی انسان بنا ہوا ہے ان کی ہر سمت میں، ان کی ہر سڑک پر جہاں سے وہ چیزیں گزرتی ہیں ان پر خدا تعالیٰ نے پہریدار مقرر فرمائے ہوئے ہیں اور یہ پہریدار ہیں جو صبر کے نظام کے تابع کام کر رہے ہیں پس جب صبر ٹوٹتا ہے تو سارا دفاعی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔اشتعال کی حالت میں صبر بہت ہی زیادہ ضروری ہے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ اکثر جو مجھے خاندانی اور نجی جھگڑوں میں شکائتیں ملتی ہیں اور تکلیفوں کی اطلاعیں ملتی ہیں ان کی بنیا داشتعال پر ہوا کرتی ہے۔یعنی غصہ تو پیدا ہو جاتا ہے لیکن جب انسان مشتعل ہو جائے اور اختیار نہ رہے اپنے اوپر۔اس کے نتیجے میں جو اس کے منہ سے باتیں نکلتی ہیں یا جو حرکتیں اس سے سرزد ہوتی ہیں وہ اپنا دائی اثر پیچھے چھوڑ جایا کرتی ہیں۔چنانچہ کئی دفعہ بعض خاندانوں کو سمجھاتے ہوئے انہوں نے کہا ہے جی ! یہ تو ہو گیا لیکن فلاں وقت اس نے جو میری ماں کے متعلق یہ بات کہہ دی اب میں اس کو نہیں بھول سکتا، ایسی کڑوی بات ہے کہ میں اس کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا کہ وہ بات بھی رہے اسی جگہ اور یہ عورت بھی میرے ساتھ رہے اسی طرح یا خاوند بھی میرے ساتھ رہے اور یہ بات بھی میرے ساتھ رہے۔وہ بات ایسی تلخ ہے جو ہمیشہ کے لئے اس کے دل میں کس گھولتی رہتی ہے اور بعض دفعہ ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جس کے نتیجے میں انسان سمجھتا ہے کہ کسی حد تک یہ شخص مجبور ہو چکا ہے اور بات کیا تھی بس ایک اشتعال کی حالت تھی۔تو صبر کا مضمون بہت ہی وسیع ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھتا ہے اور صبر