خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 860
خطبات طاہر جلدے 860 خطبه جمعه ۲۳ دسمبر ۱۹۸۸ء والے ہاتھ کو نفرت سے نہیں دیکھتا اور جتنا اس نے اس کو دیا اس پر بہت راضی ہو جاتا ہے اور جو بھی اس کو دیا اس پر راضی ہو جاتا ہے۔ قناعت کا مضمون دراصل ایاز اور محمود کے ایک واقعہ کے تعلق سے زیادہ عمدگی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ ایک دفعہ بیان کیا جاتا ہے کہ محمود نے ایاز کو آزمانے کی خاطر یا یوں کہنا چاہئے کہ ان کے اپنے محل کے دیگر وزراء کو سمجھانے کی خاطر کہ میں ایاز سے کیوں خاص طور پر پیار کرتا ہوں ۔ ایک دفعہ محل میں بیٹھ کر ایک ایسا خربوزہ جس کے متعلق اس کو علم تھا کہ انتہائی کڑوا ہے اس کی ایک قاش کاٹی اور ایا زکو دی۔ ایاز نے وہ قاش کھانی شروع کی اور بہت ہی لطف اٹھایا اور بار بار حمد کرتا رہا اور شکر کرتا رہا، بڑے مزے لے لے کر اس نے وہ قاش کھائی۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر دوسرے وزراء کے لئے بھی بادشاہ نے قاشیں کاٹنی شروع کیں اور دینی شروع کیں۔ یوں کہنا چاہئے کہ ابھی پہلے وزیر کو ایک ہی قاش دی تھی اور اس نے ایک ہی لقمہ لیا تو وہ باہر کی طرف دوڑا تھوکنے کے لئے اور واپس آکر اس نے کہا بادشاہ سلامت اتنا کڑ واخر بوزہ ، ایسا گندہ ، ایسا بدمزہ میں نے زندگی بھر کبھی نہیں کھایا اور مجھے تعجب ہے کہ ایاز کو کیا ہو گیا ہے اس کو کوئی ذوق نہیں ہے ، اس کو پتا ہی نہیں کہ شیرینی اور کڑواہٹ میں کیا فرق ہے۔ محمود نے کہا نہیں تمہیں کچھ علم نہیں کہ وفا اور محبت اور دنیا داری کے تعلق میں کیا فرق ہے۔ کہانی کے مطابق محمود نے ایاز سے پوچھا دوسروں کو سمجھانے کی خاطر کیوں ایاز یہ کیا بات ہے؟ یہ تو بتاؤ یہ اتنا کٹر واخر بوزہ تم اتنے مزے لے لے کے کیوں کھا رہے تھے۔ تو اس کا ایاز نے یہ جواب دیا کہ بادشاہ سلامت ! میں ہمیشہ آپ کے ہاتھ سے میٹھی قاشیں کھاتا رہا، مجھے اس قاشیں عطا کرنے والے ہاتھ سے پیار ہے، مجھے آپ سے محبت ہے، اس ایک ہاتھ نے مجھے آج اگر ایک کڑوی قاش بھی دے دی تو میں بڑا ہی بے وفا اور مردو د انسان ہوتا اگر اس کڑوی قاش پر اپنی طرف سے منافرت کا اظہار کرتا۔ اس پر پھر بادشاہ نے مڑ کر دوسرے وزراء کو دیکھا اور بتایا کہ کیوں مجھے ایاز سے زیادہ پیار ہے اور کیوں تم سے کم ہے؟ تو در اصل قناعت کا مضمون اسلام میں خدا تعالیٰ کی محبت سے گہراتعلق رکھتا ہے۔ وہ مومن جو خدا کو رازق سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا نے تقدیریں بنائی ہیں اور خدا نے جو کچھ دیا اس کو ہم زور بازو سے پھیلا کر بڑا نہیں کر سکتے اگر وہ اور نہ دینا چاہئے۔ اس مضمون کو اگر انسان سمجھ لے تو خدا نے جتنا بھی دیا ہے اس پر کسی حالت میں بھی ناراض نہیں ہو سکتا اور پھر اس پر راضی رہنے کا مضمون یہ نہیں ہے کہ مزید