خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 859
خطبات طاہر جلدے 859 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۸ء قناعت کی تشریح نیز مباہلہ میں مشارکت زمانی کی دعوت تسلیم ہے (خطبه جمعه فرموده ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔میں نے گزشتہ خطبہ میں قناعت کا مضمون ایک حد تک بیان کیا تھا اسی سلسلہ میں آج چند اور باتیں احباب کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے قناعت کا توحید سے بہت گہرا تعلق ہے اور جتنا اس مضمون پر میں غور کرتا گیا ہوں میں نے اس میں اور بھی زیادہ گہرائی پائی۔قناعت بظاہر تو محض اس رجحان کا نام ہے کہ جو کچھ ہے انسان اسی پر راضی ہو جائے لیکن درحقیقت یہ مضمون یہیں ختم نہیں ہوتا۔جس کو خدا پر کامل ایمان نہیں اور جو رضائے باری تعالیٰ کی خاطر اپنی زندگی گزارنا نہیں جانتا اسے قناعت نصیب ہو ہی نہیں سکتی۔وہ قناعت جو خدا کے تعلق کے بغیر ہو اس کا نام موت ہے۔اس لئے بعض لوگ جو قناعت کے مضمون کو نہیں سمجھتے وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ تم ہر قسم کی ترقی کی کوشش چھوڑ دو جو کچھ تمہارے پاس ہے اس کو تقدیر الہی سمجھ کر اس پر راضی ہو جاؤ اور ہر گز آگے بڑھ کر مزید حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو۔ہرگز قناعت کا یہ مضمون نہیں۔جو قناعت ہمیں اسلام سکھاتا ہے اس کا اللہ تعالیٰ کی محبت سے تعلق ہے اور دوستی کا مضمون اس میں داخل ہے۔اسلام میں قناعت کا تصور یہ ہے کہ جس طرح ایک دوست اپنی خوشی سے اپنے محبت کرنے والے کو کچھ عطا کرتا ہے اور پھر ہاتھ روک لیتا ہے تو وہ شخص جو اس سے سچی محبت کرتا ہے وہ اس کی دینے والے ہاتھ کو تو محبت سے دیکھ رہا ہوتا ہے، روکنے