خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 855
خطبات طاہر جلد ۶ 855 خطبه جمعه ۶ اردسمبر ۱۹۸۸ء کے سوا درمیانی کوئی رستہ نہیں ہے۔اس تفصیل سے جب آپ اپنے جھوٹ بولنے کے پس منظر پر غور کریں تو آپ کا دل کانپ اٹھے گا کہ ہر جھوٹ پر آپ خدا کے مقابل پر ایک فرضی بت کی پناہ میں آتے ہیں، ہر جھوٹ کے وقت آپ خدائے واحد کے مقابل پر شیطان کی پناہ میں آتے ہیں اور کوئی خوف نہیں کرتے اور کوئی شرم نہیں کرتے اپنے خدا سے اعوذ بــالــلــه مــن الشـيـطـن الرجيم كى تلاوت کرتے ہیں ہمیشہ۔میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان رجیم سے اور دن میں سوسو بار شیطان کی پناہ مانگتے ہیں خدا تعالیٰ سے کہ اے شیطان ! ہمیں بچا کیونکہ خدا ہمیں بچانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ہم خدا کی پناہ میں محفوظ محسوس نہیں کرتے اپنے آپ کو۔یہ ہے بیچ اور یہ ہے جھوٹ۔ان دونوں کے درمیان آپ فرق نہیں کر سکتے۔تو جب تک آپ بیماریوں کو پہچانیں گے نہیں آپ کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ یہ کتنا گہرا کینسر ہے، کیسا ناسور ہے جو آپ کے سینے کے اندر اور زیادہ گہرا اور زیادہ گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے یہاں تک کہ آپ کے سارے وجود کے آر پار ہو جائے گا۔اس وقت تک نہ آپ کو حق کی طرف بھاگنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی ، نہ حق خدا سے دعا کرنے کے لئے دل میں بیقراری محسوس کریں گے۔تو دعا کا دوسرا مضمون ہے فَفِرُّوا اِلَی اللہ کا۔خدا تعالیٰ کی طرف بھا گو، اس سے دعا مانگو اور اس کو پکارو بھی۔چنانچہ خطرہ کسی قسم کا بھی ہو اگر کوئی بچانے والا وہاں موجود ہو تو انسان خاموش حرکت نہیں کیا کرتا پھر۔اس کی حرکت میں واویلا پیدا ہو جاتا ہے۔اگر اس کے پاس اس کے ساتھی کھڑے ہیں ، قریب ہی کہیں موجود ہیں جن کے پاس بندوقیں بھی ہیں ، جن کے پاس اور ہتھیار موجود ہیں۔تو جانور خواہ آسمان سے حملہ کر رہا ہو، خواہ زمین سے ، خواہ پانی سے نکل کر اس پر حملہ آور ہو۔وہ دوڑے گا ضرور اس سے اس جگہ کی طرف جس کو امن کا مقام سمجھتا ہے لیکن ساتھ آوازیں بھی دے گا اور پکارے گا بھی کہ اے میرے ساتھیو! اے میرے دوستو! مجھے بچاؤ۔بعض دفعہ تو بچہ چونکہ فطرت کے قریب ہے اور سچائی کے قریب تر ہے اس کے اندر بے ساختہ یہ دونوں باتیں پیدا ہوتی ہیں۔یہاں تک کہ اس کی ماں اس آواز کو نہ بھی سن رہی ہو ، کوسوں دور بھی ہو تو اس کے ذہن میں سب سے زیادہ خیال اس وجود کا آتا ہے جو ہر قیمت پر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بھی اس کو بچا سکے گی۔تو اس کے جو دل سے ماں ماں کی آوازیں بلند ہوتی ہیں اور وہ چیخیں مارتا ہے کہ اے میری ماں!