خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 856
خطبات طاہر جلد ۶ 856 خطبه جمعه ۱۶ار دسمبر ۱۹۸۸ء دشمنوں نے اس کو اغوا کیا ہوا ہے، اس کو اٹھا کے ایسی جگہ لے گئے ہیں جہاں سے وہ ہزار چینے تب بھی کوئی اس کی آواز نہیں سن سکتا لیکن وہ ہاتھ پاؤں بھی مارے گا اور ماں ماں کہہ کے پکارے گا یہ ہے مضطر کی دعا جو انسان کو گناہوں سے بچا سکتی ہے اور گناہوں سے انسان خدا کی پناہ میں آسکتا ہے لیکن اگر خطرے کا احساس ہو۔ایک سوئے ہوئے بچے کے ساتھ آپ جو چاہیں کر دیں وہ تو نہ ہاتھ پاؤ ں مارے گا، نہ کسی کو پکارے گا۔تو بہت سے نفس ایسے ہیں جو سوتی ہوئی حالتوں میں ہلاک کر دئے جاتے ہیں اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہورہی ہے۔اس لئے غفلت سے شعور کی حالت میں داخل ہونا سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔اس لئے میں ہر احمدی بڑے اور چھوٹے کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ فی الحال دوسروں پر تنقید کو چھوڑ کر اپنے نفس پر تنقید شروع کریں۔اکثر خط جو مجھے آتے ہیں تنقید سے تعلق رکھنے والے وہ دوسروں پر تنقید ہوتی ہے کہ یہ دیکھو یہ ہو گیا، وہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔پتا ہی کوئی نہیں کہ اپنے اندر کیا کھلبلی مچی ہوئی ہے، کیا قیامت ٹوٹی پڑی ہے اور جو سوسائٹی ایسے افراد پر مشتمل ہو کہ ہر ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہا ہے ان میں سے ہر ایک اپنے نفس سے غافل ہو چکا ہوتا ہے۔ایک دیکھنا اور ہے وہ دیکھنا ہے اپنے نفس کو دیکھ کر اس کے آئینے سے سوسائٹی کا مطالعہ کرنا اور اس کو متنبہ کرنا اور اس کے لئے فکرمند ہونا۔اس میں کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ جو اپنے نفس کے آئینے سے دوسرے کو دیکھتا ہے چونکہ وہ اپنے نفس کی حالت زار کے نتیجے میں دعا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور صرف تنقید کی حد تک ظالم ہے واقعہ ظالم نہیں ہوا کرتا۔بالکل اسی طرح یہ آئینہ اسے سوسائٹی دکھاتا ہے وہ سوسائٹی کو سچائی کی آنکھ سے دیکھتا ضرور ہے، اس کی کمزوریوں سے واقف ہوتا ہے، ان کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسی طرح جس طرح اپنے نفس کی برائیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لوگوں کے سامنے اچھال کر نہیں بلکہ گہرے درد کے ساتھ اپنے خدا کے حضور رکھ کر گریہ وزاری کے ذریعے، اپنے نفس کو ملامت کے ذریعے ، اپنے نفس کو نصیحت کے ذریعے نہ کہ اس لئے کہ وہ نفس دنیا میں بدنام ہو۔تبھی آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہ گر بتایا کہ مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوتا ہے۔(ابو داؤد کتاب الادب حدیث نمبر: ۴۲۷۲) یہاں وہ ناقد مراد ہے جو اپنے نفس کے آئینے میں کسی اپنے بھائی کی برائیاں اس طرح دیکھتا ہے کہ خود صاحب تجر بہ ہو جاتا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ کیا کیا میرے نفس پر گزرتی رہی ، کیا گزر رہی ہے، اسی قسم