خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 853 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 853

خطبات طاہر جلد ۶ 853 خطبه جمعه ۱۶ر دسمبر ۱۹۸۸ء جائیں گی پھر ان کے خلاف آپ کے پاس کوئی طاقت نہیں ہوگی۔اس خطرے کے عظیم ہونے سے پہلے پہلے اور آپ پر غالب آجانے سے پہلے پہلے وہ مقامات جہاں خطرے پیدا ہورہے ہیں ان کو جستجو کی نظر سے دیکھیں اور ان کا تجزیہ کریں پھر آپ کے اوپر کوئی شیطان کبھی غالب نہیں آسکتا اور پھر آپ خدا کی پناہ میں آنے کے لئے خدا کی اس صفت کو اپنانے کی کوشش کریں جس کے بغیر آپ اس قسم کے گناہوں سے جو آپ کی نظر میں ہیں کبھی بچ نہیں سکتے۔تو ایک پہلو فَفِرُّوا إِلَى الله کا یہ ہوا کہ ہم اپنے خطروں کی نشاندہی کریں اس کے مد مقابل خدا تعالیٰ کی جو صفت امن کی خاطر ہماری منتظر ہے بانہیں کھولے ہوئے اس صفت کو پہنچانیں اور اس کی طرف دوڑیں۔دوسرا پہلو دعا کا ہے جو فَفِرُّوا اِلَى الله کے مضمون میں شامل ہے۔دعا کرتے وقت ایک انسان کے دل میں جب ہیجان پیدا ہو یا خوف و خطر کا احساس ہو تو ایک غیر معمولی قوت پیدا ہو جاتی ہے جو دعا کو رفعت عطا کرتی ہے۔اس لئے وہاں بھی جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے خطرے کی پہچان اور اس کی ہلاکت خیزی کا عرفان ضروری ہے۔جتنا زیادہ آپ کو خطرے کی پہچان ہوگی اور اس کی ہلاکت خیزی سے آپ واقف ہوں گے کہ اس اس طرح یہ نقصان پہنچاسکتی ہے یہ چیز اتناہی زیادہ آپ کے اندر دعا کا میلان پیدا ہوگا اور آپ کی دعا میں اٹھنے کی طاقت آئے گی ورنہ ہر انسان عمومی طور پر تو موٹے موٹے اپنے گناہوں سے واقف ہی ہوا کرتا ہے۔اپنی بدیوں سے بالعموم ظاہری شکل میں تو انسان واقف ہی ہوا کرتا ہے لیکن واقف ہونے کے باوجود ہیجان نہیں پیدا ہوتا اور دعا کے ساتھ مضطر ہونا ضروری ہے کیونکہ مضطر کے متعلق خدا نے وعدہ کیا ہے کہ میں مضطر کی دعا ضرور قبول کرتا ہوں۔تو اس کا بھی پھر گویا کہ عرفان سے تعلق ہوا۔جتنا زیادہ آپ اپنے گناہ کی ہلاک کرنے کی طاقتوں سے واقف ہوں گے اتنا زیادہ آپ کے اندر بے چینی پیدا ہوگی۔ایک انسان کو نزلہ بھی ہوتا ہے اتنا بے چین نہیں ہوا کرتا اس سے لیکن کینسر بھی ہوتا ہے اس سے کتنا بے چین ہو جاتا ہے؟ خواہ نزلہ زیادہ تکلیف دہ ہو اور کینسر سے بظاہر کوئی تکلیف نہ ہو رہی ہو لیکن چونکہ علم ہے کہ کینسر کس طرح ہلاک کیا کرتا ہے اور چونکہ علم ہے کہ نزلہ تکلیف دینے کے بعد پھر اس میں آپ ہی آپ رخصت ہو جائے گا اور ہمیں چھوڑ جائے گا۔اس لئے ایک نے ہیجان پیدا کر دیا اور ایک نے ہیجان پیدا نہیں کیا۔تو بہت سے گناہ ایسے ہیں جن کے متعلق انسان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کتنا مہلک گناہ ہے۔