خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 852
خطبات طاہر جلد ۶ 852 خطبه جمعه ۶ اردسمبر ۱۹۸۸ء جو لا محدود ہے اور ساری کائنات میں ہے کوئی جگہ اس سے خالی نہیں اس کا اپنا ذاتی احساس حمد ایک اتنی عظیم چیز ہے کہ اس کے مقابل پر ساری کائنات بھی اگر اس حمد کا انکار کر دے اور ناشکری شروع کر دے تو خدا کو واقعۂ ضرورت نہیں ہے۔خدا اور اس کے عظیم بندوں یعنی انبیاء کے بعد درجہ بدرجہ غنی کا اور قناعت کا تعلق مختلف ہوتا چلا جاتا ہے یعنی غنی کی پوری شان انسانی قناعت میں نہیں رہتی لیکن پھر بھی جتنی بھی ہو قناعت حسین دکھائی دیتی ہے۔چنانچہ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے بعض لوگوں کو میں نے بڑے غور سے قریب سے دیکھا ہے ان کی زندگیاں بہت زیادہ مطمئن ہیں ان لوگوں کی نسبت جن کو ان سے سینکڑوں گنا بعض دفعہ ہزاروں گنا زیادہ ملا ہوا ہے۔وجہ یہ ہے کہ وہ قانع ہیں اور وہ دوسرے زیادہ پانے والے بدنصیبی کے ساتھ قانع نہیں ہیں اور ان کی حرص ہمیشہ ان کے ماحصل کے حدود سے آگے آگے بھاگ رہی ہوتی ہے۔اس لئے قناعت بڑی ضروری ہے۔اگر خاوند قانع ہو بیوی قانع نہ ہو تو ان برائیوں کے علاوہ ایک اور بھی جہنم پیدا ہو جاتی ہے گھروں میں۔اگر بیوی قانع ہو اور خاوند قانع نہ ہو تب بھی یہی مصیبت ہے۔اگر ماں باپ قانع ہیں اور بچے قانع نہیں ہیں تو وہ اپنے ماں باپ کے طعنے ایک عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہو گا بعض ماں باپ اللہ کی رضا پر راضی ، جو کچھ ان کو ملا ہے اس کے اندر رہنے والے لیکن ان کے بچے پھر ان کی ساری عزتیں خاک میں ملا دیتے ہیں ، آگے آگے بھاگ کر اپنی حرصوں کو پوری کرنے کے لئے ایسے بوجھ اٹھا لیتے ہیں کہ ان کے ماں باپ پھر ان کو اتا ر بھی نہیں سکتے۔تو قناعت کا نہ ہونا ایک بہت ہی خطرناک چیز ہے اگر صبر بھی نہ ہو۔تو صبر اور قناعت کو دونوں کو اپنی حفاظت کے لئے استعمال کرنا چاہئے اور آج کل کے زمانے میں مالی لین دین کی خرابیوں میں یہ دونوں صفات انسانوں کے بہت زیادہ کام آسکتی ہیں۔اس لئے جب میں کہتا ہوں کے گناہوں کوٹو لیں تو میری مراد یہ نہیں ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ کہا تھا کہ گناہ بننے کے بعد ان کو ٹولیں۔میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ گناہوں کی پیدائش سے پہلے ان کونوں کھدروں میں جہاں چھپ کر جراثیم پرورش پا رہے ہوتے ہیں، جہاں گناہوں کی پیدائش ہو رہی ہوتی ہے ان جگہوں سے پردے اٹھا ئیں اور ان پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کے کیا ہورہا ہے آپ کے اندر کس طرح بالآخر آپ کو گناہوں کی طرف دھکیلا جائے گا اور وہ قو تیں جو ہانک کر آپ کو گناہوں کی طرف لے