خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 851
خطبات طاہر جلد ۶ 851 خطبه جمعه ۱۶ار دسمبر ۱۹۸۸ء کرتے ہو وہ بھی تمہارے اپنے لئے ہوتا ہے۔وہ تو لغنى عَنِ الْعَلَمِينَ تمام جہانوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔کچھ کرے یا نہ کرے خدا تعالیٰ کی ذات کو ، اس کی صفت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔پھر اس مضمون کا دوسرا پہلو بیان کرتے ہوئے حضرت موسی کی زبان میں خدا فرما تا انہوں نے اپنی قوم سے کہا اِنْ تَكْفُرُوا أَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا۔اگر تم سارے کے سارے اور وہ تمام لوگ یا جاندار جو روئے زمین پر بستے ہیں کلیۂ خدا کے ناشکرے ہو جائیں تب بھی فَإِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ خدا تعالیٰ غنی ہے۔تمہاری حمد نہ کرنے سے اس کی ذاتی صفت حمید کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔وہ جو حمید ہے وہ حمید ہی رہتا ہے خواہ اس کا کوئی اقرار کرے یا نہ کرے۔اور بعض دفعہ انسان کو بھی ایسا تجربہ ہوتا ہے یعنی غنی اور حمد جب دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ایک عجیب نیا مضمون اس سے پیدا ہو جاتا ہے۔بعض لوگ چھوٹی سی نیکی کرتے ہیں اور جب تک وہ نیکی ان کی حمد کی شکل میں تبدیل نہ ہو ان کو چین نہیں آتا۔نہ وہ قانع ہیں نہ وہ غنی ہیں اس لئے وہ دکھاوے کر کر کے اپنی نیکیوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔اس کے برعکس بعض ایسے لوگ ہیں جو نیکی کرتے ہیں اور ان کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس نیکی کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ نہیں بلکہ بعض دفعہ جب اس نیکی کے اعتراف کی بجائے ان کی حمد کے بجائے ان کی برائی کی جاتی ہے تو اپنے دل میں ایک خاص لذت محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے نیکی کی ہے اور ان کو بد کہنے والے بے وقوف ہیں ، نادان ہیں، ان کو کچھ پتا نہیں کہ کیا کر رہے ہیں۔یہ صفت خصوصیت کے ساتھ انبیاء کو عطا ہوتی ہے اور جس رنگ میں خدا قانع بنتا ہے غنی کے ذریعے اس رنگ میں انبیا ء خدا کے بندے ہونے کے باوجود اس خدائی صفت سے خوب اچھی طرح اپنے دل کو منور کر لیتے ہیں اور قانع بنتے ہیں غنی کی صورت میں۔دنیا جو چاہے ان کو کہتی پھرے ساری خوبیاں ان کے سوانح میں دوسرے انسانوں سے بڑھ کر ان کے دل میں موجود ہوتی ہیں اور ان کے اعمال میں موجود ہوتی ہیں۔ان کی سیرت، ان کی سیرت خوبیوں کا مجسمہ بنی ہوئی ہوتی ہے لیکن دنیا ساری خوبیوں کا ان سے انکار کر رہی ہوتی ہے اور وہ خوش رہتے ہیں، وہ غنی ہوتے ہیں، وہ مستغنی ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہم جانتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں ، ہم جانتے ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں۔بندہ تو پھر بھی کمزور ہے اور اس کا جانا بھی محدود ہے لیکن خدا