خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 850 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 850

خطبات طاہر جلد ۶ 850 خطبه جمعه ۶ اردسمبر ۱۹۸۸ء بہت سے لوگ میں نے دیکھے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے یہ صفت عطا فرمائی ہے ان کی آمد میں تھوڑی ہیں لیکن وہ خوش ہیں ان کے گھروں میں سکون ہے وہ خود بھی قانع ہیں ، ان کی بیویاں بھی قانع ہیں، ان کے بچے بھی قانع ہیں کیونکہ وہ گردو پیش میں اچھی چیزوں کو دیکھتے تو ہیں لیکن اپنے دل کو یہ سلیقہ سکھا دیا ہے کہ اچھی چیز جو نہیں ہے وہ نہیں ہے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔جتنا ہے جو کچھ ہے اس کو مزے لے لے کر استعمال کرنا چاہئے چنانچہ ایسے لوگ جب بغیر سالن کے سوکھی روٹی کے اوپر مرچیں اور نمک لگا کر مل کر کھاتے ہیں تو ہو سکتا ہے ان کو اتنازیادہ مزہ اس میں آ رہا ہو کہ ایک بے صبرے اور غیر قانع شخص کو اچھے اچھے کھانوں میں بھی وہ مزہ نہ آرہا ہو۔بلکہ ہوسکتا نہیں یقیناً ایسا ہی ہے کیونکہ اچھی سی اچھی چیز مہیا ہونے والے کو بھی اس سے اچھے کا تصور مزید کے لئے بے چین رکھتا ہے۔جو شخص قانع نہ رہے اگر وہ صابر بھی ہوتب بھی اس کی جو حیثیت اور توفیق ہے اس کی حدوں سے باہر اس کی امنگیں چھلانگ لگا رہی ہوتی ہیں اور اس کی آرزوئیں اتنا اونچا اڑ رہی ہوتی ہیں کہ وہ اس کی توفیق کی حد سے باہر ہوتی ہیں۔اس لئے اس کے دل کی بے چینی ایک لازمہ ہے۔ایسی چیز ہے جس کو وہ دور نہیں کر سکتا۔چنانچہ قناعت ایک عجیب صفت ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی صفت غنی سے تعلق رکھتی ہے۔خدا تعالی قانع نہیں ہے کیونکہ خدا کو تو ہر چیز میسر ہے مگر وہ غنی ہے اور غنی ان معنوں میں کہ جو چیز اس کی ہے وہ اس کو نہیں دی جارہی لیکن وہ اس سے تکلیف محسوس نہیں کرتا ، اس سے مستغنی ہو جاتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ (اعنکبوت ۷) پھر فرمایا : وَقَالَ مُوسَى اِنْ تَكْفُرُوا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيْعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ ) (براہیم: ) کہ جو شخص بھی ایک مجاہدہ کرتا ہے وہ اپنے نفس ہی کے لئے مجاہدہ کرتا ہے۔اِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ خدا تعالیٰ تمام جہانوں سے مستغنی ہے۔یہاں غنی بمعنی مستغنی کے ہے کہ تم اگر کوئی کوشش کرتے ہو، کوئی نیکی کرتے ہو تو اس کا خدا تعالیٰ کوکوئی فائدہ نہیں ہے۔لازماً اس کا فائدہ تمہیں پہنچ رہا ہے۔اس لئے کبھی بھی اپنی نیکی کے نتیجے میں خدا کے مقابل پر اپنا کوئی مقام اور مرتبہ نہ سمجھنے لگ جانا۔یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ ہم نے یہ نیکی کر دی گویا اللہ کی خاطر یہ کیا ، خدا کی خاطر یہ کیا، کرتے تو خدا کی خاطر ہو لیکن ہوتا تمہاری اپنی خاطر ہے۔یعنی جو کچھ خالصہ اللہ کے لئے