خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 849
خطبات طاہر جلد ۶ 849 خطبه جمعه ۶ اردسمبر ۱۹۸۸ء معنوں میں وہ صبور نہیں ہے کہ بے بس اور بے اختیار ہے۔ان معنوں میں صبور ہے کہ اس کو اختیار ہے اور پھر نہیں کرتا اور حقیقت میں انسان صبور بھی اسی وقت کہلا سکتا ہے جب اسے اختیار ہو اور وہ نہ کرے ور نہ کہا جاتا ہے عصمت بی بی بیچارگی“۔بڑی پاکباز عورت ہے اس لئے کہ بیچاری ہے اس کے پاس اور کوئی اختیار ہی کوئی نہیں اس کو آپ صبور نہیں کہیں گے۔صبور وہی ہے جو کر سکتا ہے قانون تو ڑ کر کرے چاہے لیکن کر سکتا ہے اور پھر وہ رک جاتا ہے اس کے عقل کے تقاضے، اس کا خدا سے تعلق یہ سارے امور اس کو مجبور کرتے ہیں کہ تم نے یہ کام نہیں کرنا۔تو خدائے صبور کی طرف اس کا دوڑنا ان ساری برائیوں سے اس کو بچا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو یہ یادرکھنا ہوگا کہ ہر ایک ہمیشہ کے لئے اندرونی جدو جہد کو پیدا کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ میں وہ جد و جہد نہیں ہوتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے۔انسان کے لئے صبر ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے صبر کے مضمون کے ساتھ صاحب عزم ہونے کا مضمون بھی باندھا ہے یعنی آپ خدا کی خاطر کسی اور وجہ سے کسی برائی سے رکتے ہیں، کسی خواہش کو پورا ہونے سے روک لیتے ہیں لیکن دل ضرور بیقرار رہے گا۔ایک جدو جہد ضرور ہے جو سینہ میں جاری رہے گی ، ایک ہلچل مچی رہے گی، ہر دفعہ دل چاہتا ہے لیکن آپ مجبور ہیں یعنی صبر آپ کا مجبور کر دیتا ہے، روک دیتا ہے۔تو ایک صابر کی زندگی ایک مجاہد کی زندگی ہے۔جس طرح ایک نفس سے باہر مجاہدہ ہوا کرتا ہے اسی طرح ایک نفس کے اندر بھی مجاہدہ ہوتا ہے جو صبر کے نتیجے میں بڑی شدت کے ساتھ انسان کے اندر جاری رہتا ہے اور انسان کی دو قو تیں آپس میں ایک دوسرے سے لڑتی رہتی ہیں لیکن قناعت کا مضمون اس سے مختلف ہے۔قناعت صبر کے سوا ایک اور طاقت ہے جو آپ کو گنا ہوں سے روکتی ہے اور گناہوں سے باز رکھتی ہے اور اس کے ساتھ مجاہدہ نہیں ہے بلکہ ایک امن کی حالت ہے اور سکون کی حالت ہے۔اس لئے اگر صبر ٹوٹے اور قناعت بھی نہ ہو تو پھر انسان کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔قناعت کہتے ہیں اپنی خواہشات کو اس طرح لگام دینا کہ ان کو چھوٹا کرتے چلے جانا ، ان کو کم کرتے چلے جانا یہاں تک کہ آپ کی خواہشات میں کوئی شدت نہ رہے، کوئی جان اور کوئی قوت نہ رہے اور اگر آپ اپنی خواہشات کو اپنی حیثیت کے مطابق کر لیں جتنا قد آپ کی استطاعت کا ہے اتنا ہی قد آپ کی خواہشات کا بھی ہو جائے تو وہ مقام آپ کے لئے سکون کا مقام ہوگا اور طمانیت کا مقام ہو گا۔ایسے