خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 848 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 848

خطبات طاہر جلد ۶ 848 خطبه جمعه ۱۶ار دسمبر ۱۹۸۸ء سوال یہ ہے کہ اس کا بدیوں سے کیا تعلق ہے اور بدیوں سے روکنے والی کون سی صفات ہیں۔یہ خواہشات اگر پیدا ہوتی رہیں اور ان خواہشات کو انسان ابھارتا رہے اور ان خواہشات کی متابعت شروع کر دے اور ان اچھی چیزوں کی خوابیں دن کو بھی دیکھنے لگے جو اسے بھلی دکھائی دیتی ہیں تو اس کے نتیجے میں بسا اوقات ایک ایسا مقام آجاتا ہے کہ وہ پھر اس جذبے کو برداشت نہیں کر سکتا۔پھر خواہ قانون اس کو اجازت دے یا نہ دے وہ ان چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ایسے موقع پر صبر اس کے کام آ سکتا ہے صرف۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے صبر پر بہت زور دیا ہے۔یعنی خواہشیں بیدار ہو گئی ہیں ، حاصل کرنے کا ذریعہ موجود نہیں ہے۔صرف ایک صورت ہے کہ نیکی کے تقاضوں کو چھوڑ کر ، بھلا کر جس طرح بھی کوئی چیز ہاتھ آتی ہے اسے آپ لینے کی کوشش کریں یہ جو گناہ کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے خواہش کے نتیجے میں اس کو روکنے کے لئے صبر کی صفت کام آتی ہے اور قرآن کریم نے اس پر غیر معمولی زور دیا ہے کیونکہ دنیا میں بھاری اکثریت انسانوں کی ایسی ہے جو صبر کی محتاج ہیں۔ان کو یہ طاقت نہیں ہے کہ اپنی خواہشوں کو لگام دے سکیں۔اس لئے مجبور ہیں اگر صبر بھی ان میں نہ رہے تو وہ لازما گناہوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔حرص و ہوا کئی قسم کے گناہوں میں انسان کو مبتلا کرتی ہیں قتل بھی اس کے نتیجے میں ہو جاتے ہیں، ڈا کے پڑتے ہیں، چوریاں ہوتی ہیں، لوگوں سے پیسے مانگنے کی عادت بڑھتی ہے، پیسے لے کر نہ واپس کرنے کی بدی ان میں پیدا ہوتی ہے اور پھر بہانہ بنا کر نفس کے قرضے کے نام پر پیسے لینے کی عادت پڑتی ہے۔بدیاں چھپانے کا رجحان انسان کو صاف نظر آنا چاہئے کہ جس چیز کو میں واپس نہیں کر سکتا اس کا نام قرضہ کیوں رکھوں لیکن وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے مانگا تو یہ میری غیرت کے خلاف ہے۔اس لئے وہ کہتا ہے کہ میں قرض آپ سے لے رہا ہوں ، واپس کر دوں گا انشاء اللہ۔حالانکہ انشاء اللہ کہنے کا اس کو حق ہی کوئی نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس میں قرض کی واپسی کی کوئی توفیق نہیں ہے اور پھر جب قرض میں مبتلا ہوتا ہے تو پھر جھوٹ کی عادت پڑتی ہے۔پھر ایک برائی دوسری برائی کی طرف لے جاتی ہے۔تو ان سب باتوں سے روکنے کے لئے صبور خدا کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کی ایک صفت صبور ہے۔وہ جو چاہتا ہے کر سکتا ہے لیکن بہت سی باتیں نہیں کرتا۔بہت سی باتیں وہ تکلیف دہ دیکھتا ہے جن کو روک سکتا ہے ہٹا سکتا ہے لیکن ان کو نہیں ہٹا تا۔ان