خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 847
خطبات طاہر جلد ۶ 847 خطبه جمعه ۱۶ار دسمبر ۱۹۸۸ء با وجود انسان بعض برائیوں سے ان صفات کی پناہ میں آتا ہے۔تو کیا غیر اللہ کے سوا بھی کوئی پناہ ممکن ہے؟ مثلاً ایک انسان کی صفت ہے قناعت۔جو قناعت کرتا ہے اس کو ہم قانع کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کوئی صفت قناعت نہیں ہے، خدا کو آپ قانع نہیں کہہ سکتے لیکن آپ جانتے ہیں کہ قناعت آپ کو بہت سی برائیوں اور بدیوں سے بچاتی ہے۔اس مضمون کے ذکر سے پہلے میں قناعت کا تعلق جن بدیوں سے ہے اس کے اوپر کچھ ذکر کرتا ہوں پھر بتاتا ہوں کہ خدا کی کس صفت سے قناعت کا تعلق ہے اور کیوں ہے۔در حقیقت قناعت بھی خدا تعالیٰ کی بعض صفات کے تابع ہے اور جب خدا کے متعلق آپ قناعت کا مضمون بیان کرنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے جو طریق ہمیں سکھایا ہے اس کی رو سے بعض اور صفات ہیں جو سرسری نظر سے قناعت کا مضمون اپنے اندر رکھتی ہوئی معلوم نہیں ہوتیں مگر در حقیقت کوئی انسانی صفت بھی ایسی نہیں جو کسی خدائی صفت کے تابع نہ ہو یا براہ راست وہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہو گی یا خدا تعالیٰ کی کسی صفت کے تابع ہوگی۔ہمارے معاشرے میں جو عام بیماریاں ہیں ان میں سے بہت سی ایسی خطرناک بیماریاں ہیں جن کا قناعت کے فقدان سے تعلق ہے۔صبر اور قناعت یہ دو صفات ایسی ہیں جن کا آپس میں ایک جوڑ ہے۔اس کے اوپر کچھ میں بیان کروں گا پھر خدا تعالیٰ کی اس صفت کے ساتھ اس کا تعلق دکھاؤں گا آپ کو جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ایک انسان کو اپنے گردو پیش ماحول میں چیزیں دیکھتے ہوئے اچھی اچھی چیزیں مختلف لوگوں کو اس سے استفادہ کرتے ہوئے دیکھتے ہوئے بہت سی دل میں امنگیں پیدا ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ، بہت سے اس کے جذبے جاگتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔انسان جب بھی کسی اچھی چیز کو دیکھتا ہے تو وہ اچھی چیز اپنی طرف اس کو بھینچتی ہے لیکن وہ کشش اتنی شدت سے محسوس نہیں ہوتی جتنی وہ کشش اس وقت محسوس ہوتی ہے جب کسی اور کے پاس وہ چیز دیکھ لیتا ہے۔یعنی رقابت کا جذبہ اس حسن کی کشش کو دو چند بلکہ بعض دفعہ دہ چند سو چند بھی کر دیا کرتا ہے۔تو ہر اچھی چیز کی طرف مائل ہونا یہ فطری تقاضا ہے۔انسان چاہتا ہے کہ وہ میری طرف آئے ، میں اس کی طرف جاؤں۔ہر اچھی چیز میرے قبضہ قدرت میں آجائے ، میں اسے حاصل کرلوں اور جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھیوں ، وہ کے پاس وہ چیز ہے تو پھر اگر وہ ساتھی غیر ہوں تو اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی کمی کا احساس ہونے لگتا ہے۔اگر اپنے ہوں تو اس شدت میں کسی حد تک کمی آجاتی ہے۔