خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 846
خطبات طاہر جلد ۶ 846 خطبه جمعه ۱۶ر دسمبر ۱۹۸۸ء یہ وہ مضمون ہے جو آپ کو اپنے گناہوں کا شعور بخش سکتا ہے۔اپنے نفس پر رحم کرنے والا نہیں بلکہ ظلم کرنے والا بننا پڑے گا۔وہ آنکھیں جو آپ کی ہمیشہ غیر کی طرف لگی رہتی ہے اس کی برائیاں تلاش کرنے کے لئے کبھی اپنی طرف بھی تو ان کو لوٹا ئیں۔کبھی ان نظروں سے اپنے نفس کو بھی تو دیکھیں۔معلوم تو کریں کہ آپ کے اندر کتنے ظلم کی کچھڑ یاں پک رہی ہیں، کتنا نیتوں کا فتور ہے، کتنا فساد ہے جگہ جگہ اور کتنے پردوں کی پیچھے چھپ چکا ہے۔جس طرح گھر کی دیر سے صفائی نہ ہو تو گند کونوں کھدروں میں چھپتا چلا جاتا ہے، چھپتا چلا جاتا ہے۔کوئی نیا آدمی جب اس گھر میں آتا خصوصاً عورتیں جب صفائی کرتی ہیں تو ہزار ہزار کو سنے دیتی ہیں پرانے مالکوں کو اور پرانے رہنے والوں کو، بڑے ہی گندے لوگ تھے دیکھو باورچی خانہ کا یہ حال ہے، جو گند ہوتا تھا فلاں کونے میں چھپا دیا کرتی تھیں۔یہ کوئی عورتیں تھیں، کوئی انسان تھے ، بڑی مصیبت پڑی آج صفائی کی۔نوکر بدلیں تو وہ بھی یہی کام کرتا ہے پچھلے نوکروں کو گالیاں دیتا ہے کہ دیکھو ان کو صفائی نہیں کرنی آتی تھی اور حال یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے نفس کے گند چھپاتا چلا جاتا ہے، چھپا تا چلا جاتا ہے زندگی بھر چھپاتا چلا جاتا ہے۔غیر کی آنکھ سے چھپانا شروع کرتا ہے پھر اپنی آنکھ سے چھپانے لگتا ہے۔اس لئے یہ خوب یا درکھیں کہ وہ شخص جو غیروں کی آنکھ سے اپنی برائیوں کو چھپاتا ہے وہ لازماً اس بات میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ پھر اپنی آنکھ سے اپنی بیماریوں کو چھپانے لگے اور جب اپنی نظر سے بیماریاں اوجھل ہو گئیں تو پھر آپ کو کیا پتا چلے گا کہ کس سمت سے کس سمت میں بھا گنا ہے۔نہ خطرے کی سمت معین ، نہ پناہ کی سمت معین۔جب پتاہی نہ ہو کہ خطرہ خشکی سے ہے یا پانی سے ہے تو کس طرف بھاگیں گے آپ ؟ خدا پھر بھی ہر سمت ہو گا۔خدا کی امن کی باہیں پھر بھی آپ کے لئے کھلی اور منتظر ہوں گی۔یہ آپ حرکت نہیں کر سکیں گے کیونکہ آپ کو کچھ پتا نہیں کہ اس وقت میرا امن خدا کی کس سمت میں واقعہ ہے۔اس پہلو سے میں نے جو برائیوں کے مقابل خدا کی امن دینے والی صفات کا جائزہ لیا تو یہ تو ایک بہت ہی وسیع مضمون بن جاتا ہے۔اتنا وسیع ہے کہ در حقیقت سینکڑوں خطبات میں بھی اس مضمون کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔چند مثالیں دی جاسکتی ہیں اور ان مثالوں کے ذریعے آپ کو متوجہ کیا جا سکتا ہے کہ ان باتوں پر غور کرتے رہیں اور جب اپنے نفس کو ٹولیں تو پھر اپنی پناہ گاہوں کی بھی تلاش شروع کریں۔دوسرا سوال میں نے یہ اٹھایا تھا کہ بعض صفات خدا تعالیٰ کی صفات ہیں ہی نہیں اور اس کے