خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 845 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 845

خطبات طاہر جلد ۶ 845 خطبه جمعه ۱۶ار دسمبر ۱۹۸۸ء برائیاں دیکھنے کے شوق میں ، تلاش میں کریدتا ہے دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کے اندر چھپی ہوئی کون سی بیماری ہے۔اس مضمون کو قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کے تعلق میں ظَلُومًا جَهُولًا کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا کہ ظَلُومًا جَهُولًا بظاہر تو بہت ہی خوفناک لفظ ہیں۔انتہائی ظالم اور انتہائی جہالت سے پیش آنے والا اور ذکر چل رہا ہے حضرت محمد مصطفی امیہ کا جن پر خدا نے امانت نازل فرمائی قرآن کریم کی۔تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جن معنوں میں ہم اس لفظ ظَلُومًا جَهُولًا کو سمجھتے ہیں ان معنوں میں اس کا اطلاق آنحضرت یہ تو کیا آپ کے ادنی غلاموں پر بھی ہو سکے اور مقام مدح ہے کوئی برائی کا موقع نہیں بلکہ انتہائی تعریف جو کسی انسان کی جاسکتی ہے جس سے اوپر تعریف ممکن نہیں ہے اس موقع پر خدا تعالیٰ حضرت محمد مصطفی حملے کا ذکر کر کے فرماتا ہے إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (الاحزاب :۷۳) یعنی وہ امانت جس کا بوجھ اٹھانے سے زمین و آسمان کانپ اٹھے ، پہاڑوں نے انکار کر دیا ، یہ مرد میدان آگے آیا اور اس نے اس امانت کو اٹھا لیا۔کتنا عظیم الشان تعریف کا مقام ہے۔پھر فرمایا ان كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا دیکھو کتنا ظلوم ، کتنا جہول ہے۔میں نے پہلے بھی ایک خطبے میں بیان کیا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ راز ہم پر کھولا یہاں ظلوم سے مراد دوسروں پر ظلم کرنے والا نہیں بلکہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے۔اپنے نفس کو اس طرح کھنگالنے والا ، اس شدت کے ساتھ اپنے نفس سے برائیاں دور کرنے والا کہ جیسے اس کے دل میں اپنے نفس کے لئے کوئی رحم کا جذ بہ باقی نہیں۔ہر تکلیف کے مقام پر اپنے نفس کو گھسیٹ کر لے جانے والا ، ہر آرام کے بستر سے اپنے نفس کو اٹھا کر مصائب کے میدانوں کی طرف لے جانے والا شخص ظَلُومًا کہلائے گا اور جھول اس کو کہتے ہیں جو پھر عواقب سے بے خبر ہو جائے۔اس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہ رہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔جب انسان اپنی پر واہ اس طرح چھوڑ دے اور اپنے نفس کو خدا کی خاطر ہلاکت میں ڈالتا ہے تو وہ ظَلُومًا جَهُولًا کہلاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو آسمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ (الشعراء:۴) کہ اے میرے پیارے بندے! تو کیا اپنے نفس کو ہلاک کر لے گا۔