خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 844 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 844

خطبات طاہر جلد ۶ 844 خطبه جمعه ۶ اردسمبر ۱۹۸۸ء جماعت بنا کر آپ کو دکھائی ہے تعلیم کی صورت میں کوئی رخنہ اس میں سے نہیں چھوڑا۔اس لئے بعض دفعہ کم فہم لوگ اس عبارت کو پڑھ کے ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کیا مطلب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آج ماننے والا کیا دنیا میں ایک بھی نہیں رہا۔یقینا ہیں لیکن کوئی نہ کوئی سوراخ انہوں نے اس عمارت میں داخل ہوتے وقت ایسے چھوڑ دیئے کہ وہ دیوار جو ان کے گرد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بنائی ہے وہ ہر طرف سے ہر سمت سے ان کی حفاظت نہیں کر رہی کیونکہ خود انہوں نے کچھ اینٹیں لگانی چھوڑ دیں یا بھول گئے یا بعض جگہ خود رخنہ ڈال دیئے۔تو صفات الہی کی طرف دوڑنے کا مضمون ہمیں یہ بھی بتا رہا ہے کہ خدا کی پناہ میں ایک پہلو سے آنے کے باوجود بعض دوسرے پہلوؤں سے ہو سکتا ہے کہ ہم امن کی حالت میں نہ رہیں۔چنانچہ جو شخص جھوٹ سے پر ہیز نہیں کرتا وہ حق ذات سے تعلق نہیں جوڑ سکتا اور ہر سمت سے اس پر حملے ہو سکتے ہیں اور اس کثرت کے ساتھ وہ حملوں کا شکار ہو سکتا ہے کہ سچا آدمی جس میں بعض اور برائیاں ہوں اتنا زیادہ خطرہ کی حالت میں زندگی نہیں گزارتا جتنا ایک جھوٹا آدمی زندگی گزارتا ہے۔اسی طرح آپ دوسری صفات پر غور کرنا شروع کریں تو ہر صفت کے اوپر آپ کو معلوم ہوگا کہ اس الہی صفت میں خصوصیت کے ساتھ ان ان باتوں سے پناہ دینے کی قوتیں موجود ہیں اور پھر جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا آپ کو اپنے گناہوں کے شعور کو بیدار کرنا پڑے گا۔جب تک انسان اپنے نفس کی کمزوریوں کا شعور پیدا نہیں کرتا اور اپنے نفس کی کمزوریوں کو ایسی آنکھ سے نہیں دیکھتا جیسے شدید دشمن نفرت کی آنکھ سے کسی شخص کی کمزوریوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔جب تک ایک ظالم کی نظر سے انسان اپنے نفس کی کمزوریوں کو نہیں دیکھتا اس وقت تک وہ پوری طرح اپنے وجود کو کھنگال نہیں سکتا اور وہ برائیاں جو تہ میں بیٹھی ہوئی ہیں وہ ابھر کر اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں آسکتیں۔آپ نے دیکھا ہوگا بعض دفعہ پانی شفاف دکھائی دیتا ہے لیکن اس میں آپ چھ گھول دیں یا ویسے ہی کسی لکڑی سے اس کو ہلا دیں تو نیچے سے گدلا پن اس کا اوپر ابھر آتا ہے اور آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔وہ لوگ جو گناہ کا شعور نہیں رکھتے ان کے اندر تہ بہ تہ گناہ بیٹھتے چلے جاتے ہیں اور جو گناہ ان کے دلوں کی تہوں میں بیٹھ جاتے ہیں وہ ان کی نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں تبھی ضرورت پڑتی ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے نفس کے کھنگالتا رہے اور اس طرح کھنگالے جیسے کوئی دشمن