خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 841 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 841

خطبات طاہر جلد ۶ 841 خطبه جمعه ۱۶ر دسمبر ۱۹۸۸ء فرار الی اللہ کی تشریح، قناعت کا صفت غنی سے تعلق ،جھوٹ سے بچیں یہ بڑا شرک ہے (خطبه جمعه فرموده ۶ اردسمبر ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔گزشتہ خطبہ میں نے فَفِرُّوا اِلَی اللهِ (الذاریات: ۵۱) کے مضمون پر کچھ روشنی ڈالی تھی لیکن چونکہ جمعہ کا جو عام مقرر وقت ہے وہ ختم ہو چکا تھا اس لئے کچھ حصہ مضمون کا ابھی باقی تھا۔جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ کی طرف دوڑو یعنی فرار اختیار کرو تو جب تک اس کا پوری طرح مفہوم سمجھ نہ آجائے ہم کسی سمت بھی دوڑ نہیں سکتے۔پہلی بات تو واضح ہے کہ خدا جسم نہیں ہے اور ہر سمت میں ہے۔جیسا کہ فرمایا: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ الله (البقرہ : ۱۱۶) جس طرف بھی تم منہ کرو گے وہیں اسی سمت میں تم خدا کو پاؤ گے۔تو پھر دوڑنے سے کیا مراد ہے؟ جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بھی بیان کیا تھا فرار کا لفظ کسی خطرے کے مقابل پر دوڑنے کو کہتے ہیں محض دوڑ نامراد نہیں۔تو خطرے کی نشاندہی سے سمت کا تعین ہوا کرتا ہے۔اس لئے یہ مضمون محض ایک سطحی اور عمومی مضمون نہیں ہے کہ کسی کو کہ دیا جائے کہ خدا کی طرف دوڑو بلکہ یہ سمجھا نا ضروری ہے کہ کس سے بھا گو ،کس طرف بھا گو اور یہ بتانا ضروری ہے کہ جب تک بھاگنے والا خطرے کی سمت معین نہیں کرتا اس کے بھاگنے کی سمت بھی معین نہیں ہو سکتی۔عام دنیا میں جو ہم دستور دیکھتے ہیں اس پر غور کرنے سے آپ کو اس مضمون کے اور بہت