خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 833 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 833

خطبات طاہر جلدے 833 خطبه جمعه ۹ ردسمبر ۱۹۸۸ء عقل جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا۔دراصل تقویٰ اور فجور کے احساس کے ملنے سے، فجور کے علم اور شعور کے ملنے سے پیدا ہوتا ہے اور سچائی کے بغیر کوئی تقوی نصیب نہیں ہوسکتا۔اس مضمون کو آپ آگے بڑھاتے چلے جائیں تو آپ حیران ہوں گے کہ یہی مضمون آپ کو منزل بہ منزل آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو آگے اور مزید آگے بڑھاتا چلا جائے گا۔ایک کے بعد دوسری چوٹی آپ سرکریں گے روحانی دنیا کی یہاں تک کہ آپ محسوس کریں گے کہ آپ رفتہ رفتہ تو حید خالص کی طرف بڑھ رہے ہیں۔میں نے ایک پچھلے خطبہ میں ایک دوسری آیت آپ کے سامنے رکھی تھی جس میں لفظ فرار استعمال ہوا ہے۔وہاں یہ فرمایا گیا تھا فَفِرُّوا الى الله (الذاریات: ۵۱) اللہ کی طرف دوڑو۔یعنی گھبراہٹ کے مواقع تو تمہیں ضرور ملیں گے، خطرات تمہیں دکھائی دیں گے اور تم نے دوڑنا بہر حال ہے۔دو ہی رستے تمہارے لئے ہو سکتے ہیں اگر تو تم پاگل ہو اور گدھے ہو تو اچھی چیزوں سے بھا گو گے اور اس طرح بھا گو گے کہ تم پھیل جاؤ گے چاروں طرف تمہاری کوئی Direction نہیں ہوگی ، کوئی رخ نہیں ہوگا۔اب یہ دیکھئے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کے وہاں فرمایا كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ ) فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ شیر سے بدک کر جب گدھے بھاگتے ہیں ، ان کے غول تتر بتر ہوتے ہیں تو ان کا کوئی رخ نہیں ہوا کرتا، کوئی منزل نہیں ہوا کرتی۔جس طرف منہ اٹھتا ہے جس گدھے کا اس طرف وہ نکل جاتا ہے اور چاروں طرف وہ جنگل میں منتشر ہو جاتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے وہ غول در غول اکٹھے سفر کرتے ہیں۔ان میں ایک لیڈر بھی ہوا کرتا ہے جس طرف وہ جائے اس طرف وہ پیچھے دوڑ رہے ہوتے ہیں تو ان کا تمام اتحاد منتشر ہو جاتا ہے، ان کی ساری توحید پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔تو ہر جگہ فجور آپ کو تو حید کے دشمن دکھائی دیں گے اور یہ نظارہ آپ دیکھیں گے کہ ان لوگوں کی پھر کوئی منزل، کوئی راہ متعین نہیں رہتی جو فجور میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، جن کو فجور کا شعور نہیں رہتا۔دوسری طرف بھی فرار کا لفظ استعمال فرمایا لیکن ایک رخ اور منزل کو دکھاتے ہوئے۔فرمایا فَفِرُّوا إلى الله خوف تمہیں بھی محسوس ہوں گے لیکن ان خوفوں کے نتیجے میں اگر تم تقویٰ رکھتے ہو تو بھاگ کر منتشر نہیں ہو گے بلکہ خدا کی طرف بڑھو گے۔پس ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ ہمیشہ جب