خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 825
خطبات طاہر جلدے 825 خطبہ جمعہ ۹ / دسمبر ۱۹۸۸ء فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقُونها کی لطیف تشریح تقویٰ سمجھنے کیلئے پہلے فجور کا شعور ضروری ہے (خطبه جمعه فرموده ۹ / دسمبر ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔دنیا میں جتنے بھی علوم اور ان کے شعبے ہیں وہ ترقی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور بظاہر آغاز میں ان کا ایک دوسرے سے کوئی واضح اور گہرا تعلق دکھائی نہیں دیتا لیکن جب ان پر انسان غور کرتا ہے اور مزید معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے اور ان معلومات کو ترتیب دیتا چلا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ علوم ترقی کرتے ہوئے پہاڑوں کی چوٹی کی طرح بلند ہو جاتے ہیں اور پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرح بلند ہوتے ہیں اور وہ چوٹیاں ایک دوسرے سے ملنے لگتی ہیں۔سائنسی اصطلاح میں مختلف مضامین پر غور و فکر کے نتیجے میں یہ آپس کا علمی اتحاد ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی ذی شعور نظر انداز نہیں کر سکتا۔چنانچہ فزکس اور حساب دوالگ الگ مضمون ہیں ایک فرضی علم ہے یعنی حساب اس کا ہندسوں سے اور تصورات کی دنیا سے اور منطقی دنیا سے تعلق ہے اور فزکس مشاہدہ کا نام ہے اور ایک خاص قسم کے زاویہ نظر سے بعض خاص امور میں مشاہدہ کا نام ہے۔کیمسٹری بھی مشاہدے کا نام ہے اور ایک خاص طرز نگاہ کے ساتھ بعض خاص حصوں کے مشاہدے کا نام ہے یعنی مادے کے بعض خاص حصوں کے اس کے خاص طرز عمل کے مشاہدے کا نام ہے۔یہ الگ الگ مضامین ہیں۔بیالوجی ایک اور الگ مضمون ہے وہ بھی زاویہ نظر بدلتا ہے۔اگر چہ ان سب علوم میں جو