خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 816 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 816

خطبات طاہر جلدے 816 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۸ء نقطہ نگاہ سے اپنے ارادوں کو بلند رکھا کریں اور اپنے حوصلوں کو وسیع کریں اور اپنے مقاصد کو ہمیشہ عالمی حیثیت کے ساتھ اور عالمی نقطہ نگاہ سے جانچا کریں اور چھوٹے چھوٹے افقوں کی سطح پر اپنے مقاصد کو محدود نہ کر دیا کریں۔اس لحاظ سے میں جماعت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہورہے ہیں جہاں ہم سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ انشاء اللہ آنحضرت ﷺ کے پیغام کی صبح کل عالم میں روشن کرنے کا جو مقصد لے کر اٹھے ہیں اس میں ہم بہت نمایاں کامیابی حاصل کریں گے اور یہ نمایاں کامیابی کی جو منزل ہے یہ صدیوں کے نقطۂ نگاہ سے احمدیت کی دوسری صدی سے تعلق رکھتی ہے۔پس ہم ایک اور سورج کے طلوع ہونے کے کنارے پر کھڑے ہیں ایک اور صبح کے کنارے پر کھڑے ہیں۔پہلی صدی کا سورج جب غروب ہو گا تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ دوسری صدی کا سورج طلوع ہو رہا ہوگا۔جہاں تک احمدیت کا تعلق ہے یہ دوسری صدی کا سورج زیادہ وسیع علاقے پر طلوع ہوگا اور جو بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے میں سمجھا ہوں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اگلی صدی جماعت احمدیہ کو ایک عظیم عالمی جماعت کے طور پر منصہ شہود پر ابھارے گی اور جماعت کے قدم بڑی مضبوطی کے ساتھ دنیا کے ہر ملک میں پیوست ہو چکے ہوں گے اور قائم ہو چکے ہوں گے۔اس لئے جماعت احمدیہ کے لئے یہ شام کا وقت بہت ہی اہمیت کا وقت ہے شام کا تو نہیں کہنا چاہئے دوسری صبح کے آغاز سے پہلے فجر کا وقت کہنا چاہئے۔ہم صدیوں کے نقطۂ نگاہ سے، صدیوں کے محاورے کے لحاظ سے اس وقت بظاہر ایک دن کے آخر پر ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ایک اور صبح کے سرہانے کھڑے ہیں جو طلوع ہونے والی ہے۔اس پہلو سے تسبیح وتحمید کے ساتھ ہمیں اس صبح کے لئے خدا تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ برکتوں کے حصول کا طالب ہونا چاہئے اور تسبیح وتحمید کے ذریعے اپنی صبح کو برکتوں سے بھر دینا چاہئے۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ پاکستان میں بھی احمدیوں کے حالات پہلے سے بہتر ہوں گے۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں پاکستان کے حالات سے نعوذ باللہ مایوس ہوں۔میں ہر گز یہ پیغام نہیں دے رہا کہ پاکستان میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں یہ ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔اس لئے اگر میرے خطبہ سے یہ اب تک تاثر قائم ہوا ہو تو میں اس تاثر کو دور کرنا چاہتا