خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 77

خطبات طاہر جلدے 77 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۸۸ء کے لئے وہاں گیا اور جو میں نے انسانی محبت اور بھائی چارے کا وہاں نظارہ دیکھا اور ایک خدا کی محبت میں بنی نوع انسان کا آپس میں ملنے جلنے کا جو نظارہ دیکھا وہ نظارہ میرے جذبات پر غالب آگیا اور مجھے اپنے جذبات پر کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔چنانچہ تقریباً ۴۵ منٹ ان کی قیام گاہ پر نہایت ہی پرسکون ماحول میں ان سے بہت اچھی گفتگو کا موقع ملا اور اس عرصہ میں بار بار میں ان کے لئے یہ دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ اس نیک دل، پر خلوص، خدائے واحد و یگانہ سے محبت کرنے والے اور بنی نوع انسان پر مہربان پریذیڈنٹ کولمبی ، با معنی ، خدمت کرنے والی اور کارآمد زندگی عطا فرمائے اور ان کا یہ جذ بہ صرف ان کی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ ساری قوم میں پھیل جائے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ان کی عادات ، ان کے خیالات اور ان کے دل پر نقش ہو جائے۔پس میں تمام احمدی احباب وخواتین آئیوری کوسٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ خصوصیت کے ساتھ اپنے اس نیک دل صدر کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور اس حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں اور تمام دنیا کی احمدی جماعتوں کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ صرف اس ملک کے پریذیڈنٹ کو ہی لمبی زندگی اور نیک زندگی عطانہ فرمائے بلکہ دنیا کی سیاست کو بھی انہی کی طرح خدا خوفی عطا کرے کیونکہ جب تک دنیا کی سیاست میں خدا خوفی شامل نہیں ہو جاتی اللہ تعالیٰ کی محبت سیاست پر قبضہ نہیں کرتی اس وقت تک انسان کی نجات کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔مغربی افریقہ کے اس دورہ میں یہ چوتھا ملک تھا جہاں میں نے مختصر قیام کیا ہے اور تھوڑے سے وقت کے لئے باہر جا کر دیہاتی زندگی کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔آج شام کو انشاء اللہ جمعہ کے معا بعد میں غانا کے لئے روانہ ہونے والا ہوں۔اس مختصر تجربہ کے نتیجہ میں جو افریقہ میں مجھے ہوا میں زیادہ سے زیادہ اس بات کا قائل ہوتا چلا جارہا ہوں کہ افریقہ کو محض روحانی اور مذہبی اور اخلاقی امداد ہی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جماعت احمدیہ کو بہت سے دیگر شعبوں میں بھی اس مظلوم قوم یعنی افریقن قوم کے لئے ہر طرح کی خدمت کے لئے تیار اور مستعد ہو جانا چاہئے۔خصوصیت کے ساتھ افریقہ کو اقتصادی راہنمائی کی ضرورت ہے۔جن ممالک کا میں نے دورہ کیا ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ باہر کی دنیا جو ان سے اقتصادی روابط رکھتی ہے وہ سارے خود غرضی پر مبنی ہیں۔یہ لوگ دل کے سادہ ہیں اور اعتماد کرنے والے ہیں اس لئے رفتہ رفتہ ان کی اقتصادی باگ ڈور ، اقتصادی نظام کلیۂ بیرونی