خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 78

خطبات طاہر جلدے 78 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۸۸ء ہاتھوں کے قبضہ میں جاچکا ہے اور ابھی تک وہ ان مظلوموں اور غریبوں کولوٹنے سے باز نہیں آرہے یہاں تک کہ دن بدن ان کی اقتصادی بدحالی بڑھتی چلی جارہی ہے۔افریقہ کے تمام ممالک کا کم و بیش یہی حال ہے کہ ان تمام ممالک کی اکثریت زیادہ تعلیم نہیں رکھتی اور جو حصہ تعلیم پا جاتا ہے بدقسمتی سے تعلیم کے ساتھ مغربی اثر کے نیچے چلا جاتا ہے اور مغربی تہذیب اس پر ایسا قبضہ کر لیتی ہے کہ اس کی طرز زندگی بدل دیتی ہے یہاں تک کہ بلا استثناء ہر ملک میں آپ یہ دیکھیں گے کہ مغربی تہذیب کے تابع ،مغربی تہذیب کے غلام بنے ہوئے جتنے بھی لوگ ہیں ان سب کی زندگی کا انحصار اپنے ملک کی پیداوار پر نہیں بلکہ غیر ملکی پیداوار پر اس حد تک ہو چکا ہے کہ اب وہ غیر ملکوں سے اپنے تعیش اور اپنے آرام کی چیزیں منگوائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔یہ بات ایسی واضح اور دوٹوک نہیں جتنی بظاہر دکھائی دیتی ہے بلکہ اس کے ساتھ بہت سی پیچیدگیاں وابستہ ہیں، بہت سے الجھاؤ ہیں جن پر نظر ڈالنی ضروری ہے۔ایک مذہبی جماعت کے رہنما کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اس خرابی کا اس قوم کے اخلاق پر بہت برا اثر پڑنے کا خطرہ موجود ہے اور ایک مذہبی رہنما کے طور پر جماعت احمدیہ کو خصوصیت سے ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ان تمام امور میں افریقہ کی ہر طرح سے مدد کے لئے تیار ہو۔اس کے متعلق میں کچھ اور مزید روشنی ڈالوں گا۔مغربی تہذیب کا اور مغربی طرز زندگی کا خلاصہ یہ ہے کہ بڑی بڑی شاندار عمارتیں ہوں، بہت ہی قیمتی سامان سے مزین ہوں ، نہایت قیمتی صوفہ سیٹ ، نہایت اعلی آرٹسٹ کی بنائی ہوئی تصویر یں اور دیگر آرائش کی بعض چیزیں بہترین کاریں ہوں، نئے سے نئے ماڈل ہوں، ٹیلی وژنز ہوں ، ویڈیو ٹیسٹس ہوں ، ریڈیو ہوں اور ان سب چیزوں کے ساتھ ایسے نہایت گندے اور اخلاق سوز پروگرام بھی ہوں کہ جو لوگوں کی توجہ مادہ پرستی کی طرف کرتے چلے جائیں اور انہیں ایک قسم کی افیم کا عادی بنادیں کہ ان تعیش کی باتوں کے بغیر وہ زندہ نہ رہ سکیں۔اسی طرح مغربی تہذیب آپ کے غذاؤں کے ذوق میں بھی ایک نمایاں تبدیلی پیدا کر دیتی ہے۔آپ کو مقامی غذاؤں کی بجائے ایک طلب پیدا ہو جاتی ہے کہ یورپ اور امریکہ کے بنے ہوئے پنیر کے ڈبے، وہاں کے بنے ہوئے چاکلیٹ ، وہاں کی بنی ہوئی آئس کریمیں ، وہاں کے بنے ہوئے کوکا کولا ، وہاں کے بنے ہوئے بسکٹوں کے ڈبے اور ہر قسم کے دوسرے سامان یہ روز مرہ آپ کی زندگی کا حصہ بن جائیں اور جب