خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 813 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 813

خطبات طاہر جلدے 813 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۸ء محاورے کے لحاظ سے جب انسانی حالات پر اطلاق پاتا ہے یہ محاورہ اس وقت یہ سارے امور اندھیرے میں ہوتے ہیں۔بظاہر صبح کی بات کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں خود سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں۔خود صبح کا لفظ اپنی ذات میں اندھیرے میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔اس لئے یہ ھجیں ابتدائی طور پر خوشی کا ایک پیغام لاتیں ہیں کیونکہ امکانات موجود ہوتے ہیں ان کے اچھا ہونے میں لیکن بسا اوقات شاعر اس بات کا رونا روتے ہیں بعد میں کہ یہ کیسی صبح ہم پر طلوع ہوئی اس سے تو بہتر تھا کہ وہ رات رہتی جس رات کی ہر گھڑی، ہر لمحہ ہم نے گن گن کے کاٹا اس صبح کے انتظار میں لیکن جب صبح چڑھی تو رات سے بھی زیادہ بھیا نک۔اس لئے خدا کی بنائی ہوئی صبح سے انسان کی بنائی ہوئی صبح کو نہ نا پا کریں۔یہ دو مختلف پیمانے ہیں۔یہ اور تصور ہے اور خوشی کے اظہار میں بہت جلدی نہ کیا کریں بلکہ بالغ نظر انسانوں کی طرح انتظار کیا کریں کہ یہ صبح آپ کے لئے کیا ظاہر کرتی ہے اور کیسے رنگ لے کے آتی ہے۔جہاں تک پاکستان کے حالات کا تعلق ہے جماعت احمدیہ نے خصوصیت کے ساتھ اس گیارہ سالہ رات میں دکھ اٹھائے ہیں جس گیارہ سالہ رات میں پاکستان کے دوسرے اہل وطن نے بھی دکھ اٹھائے اور عجیب بات ہے کہ اس رات کو بھی صبح کہا جاتا تھا۔لکھنے والوں نے اس رات کو بھی روشنائی سے لکھا تھا اور بتانے والوں نے اس کو بھی ایک اسلام کی صبح بتایا تھا لیکن وہ کیسی اسلام کی صبح تھی جس کی روشنی میں دن بدن بدکاریاں بڑھتی رہیں، دن بدن مظالم بڑھتے رہے، دن بدن فسق و فجور میں اضافہ ہوتا رہا، دن بدن دہریت پنپتی رہی اور منافقت آگے بڑھتی رہی۔وہ تمام حالات جو اس ظاہری صبح میں جس کو صبح بتایا جا تا تھا رونما ہونے شروع ہوئے اور رونما ہوتے رہے مسلسل۔ان حالات کا قرآنی اصطلاح میں اندھیروں سے تعلق ہے روشنی سے تو کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی صبح کو صبح ہی بتایا جاتا تھا اور اسلام کا سورج طلوع ہو گیا، ایک ایسی ضیاء آگئی جس کے نتیجے میں اب اسلام کے لئے روشنیوں کے دن ہی ہیں اور سارے اندھیرے ختم ہو گئے۔کیسے اندھیرے ختم ہوئے تھے کہ گلی گلی میں ظلم اور سفا کی کا دور دورہ تھا، وہ کیسے اندھیرے ختم ہوئے تھے کہ بدکاری اور بے حیائی بڑھتی چلی جارہی تھی ،غریبوں پر مظالم پہلے سے زیادہ ہو گئے اور دوسرے کا مال لوٹنا، دوسرے کی عزت پر ہاتھ ڈالنا ، دوسرے کی جان اور مال اور عزت کو نقصان