خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 807 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 807

خطبات طاہر جلدے 807 خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء جنگ لندن 88-10-21 کو یہ خبر شائع ہوئی ہے۔یہ اسی قسم کا اعلان ہے جیسے لیکھر ام نے یہ اعلان کیا تھا کہ تین سال کے اندر اندر احمدیت دنیا سے تو نابود ہونی ہی ہے قادیان سے بھی نابود ہو جائے اور کوئی نام لیوا مرزا غلام احمدکا باقی نہیں رہے گا۔کوئی ان سے پوچھیں گے تو ان کو بر بھی نہیں ہوگی کہ یہ کن کی باتیں کر رہے ہیں۔جب میں نے یہلیکھرام کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات دیکھی تھی تو مجھے یہ سمجھ آئی بڑی وضاحت کے ساتھ کہ کیوں اس کے عرصہ امتحان کو لمبا کیا گیا تھا۔تین سال کی بجائے چھ سال کی پیشگوئی میں حکمت کیا تھی۔اس لئے کہ وہ تین سال زندہ رہے اپنی ناکامی اور رسوائی اور ذلت کو آنکھوں سے دیکھ لے اور جان لے کہ وہ جھوٹا ثابت ہو چکا ہے پر ذلت اور رسوائی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو۔اب میں یہ نہیں کہ سکتا کہ اس کے نتیجے میں منظور چنیوٹی صاحب کے ساتھ بھی خدا یہی سلوک کرے گا کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ واضح طور پر کسی بات کی خبر نہ دے محض ایک سابقہ واقعہ کوملحوظ رکھتے ہوئے قطعی نتیجہ نکالنا درست نہیں اور تقویٰ کے خلاف ہے لیکن یہ مجھے یقین ہے اور یہ آپ سب کو یقین ہے اس میں کوئی احمدی بھی اس یقین سے باہر نہیں کہ یہ مولوی اب لازماً اپنی ذلت اور رسوائی کو پہنچے والا ہے۔کوئی دنیا کی طاقت اس کو اب اس ذلت اور رسوائی سے بچا نہیں سکتی جو خدا تعالیٰ مباہلہ میں جھوٹ بولنے والے باغیوں کے لئے مقدر کر چکا ہے اور لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (آل عمران :۶۲) کے اثر سے اور اس کی پکڑ سے اب کوئی دنیا کی طاقت اسے بچا نہیں سکتی۔پس انشاء اللہ تمبر آئے گا اور ہم دیکھیں گے کہ احمدیت نہ صرف زندہ ہے بلکہ زندہ تر ہے، ہر زندگی کے میدان میں پہلے سے بڑھ کر زندہ ہو چکی ہے۔ایک ملک ایسا نہیں مولوی منظور چنیوٹی اگر زندہ رہا تو اس کو دکھائی دے گا جس میں احمدیت مرگئی ہو اور کثرت سے ایسے ملک دکھائی دیں گے جہاں احمدیت از سر نو زندہ ہوئی ہے یا احمدیت نئی شان کے ساتھ داخل ہوئی ہے اور کثرت کے ساتھ مر دوں کو زندہ کر رہی ہے۔پس ایک وہ اعلان ہے جو منظور چنیوٹی نے کیا تھا، ایک یہ اعلان ہے جو میں آج آپ کے سامنے کر رہا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے خدا کی خدائی میں یہ بات ممکن نہیں ہے کہ منظور چنیوٹی سچا ثابت ہو اور میں جھوٹا نکلوں۔منظور چنیوٹی جن خیالات کا اور