خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 802
خطبات طاہر جلدے 802 خطبه جمعه ۲۵ /نومبر ۱۹۸۸ء چنانچہ آتھم کے معاملے میں یہی ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی بد زبانیوں کے نتیجے میں جو آنحضرت ﷺ کے خلاف تھیں خدا تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو خبر ملی کہ یہ ایک سال کے اندر اندر ہادیہ میں گرایا جائے گا یا پندرہ ماہ کی مدت میں ہادیہ میں گرایا جائے گا اور وہ اندرونی طور ایک خوفناک قسم کے روحانی عذاب میں مبتلا رہالیکن اس کی ظاہری علامت کوئی ایسی نہیں تھی جس سے دنیا بھی دیکھ سکتی۔چنانچہ اس وقت تک تو اس نے کوئی زبان نہ کھولی لیکن جب سال گزر گیا تو اس کے حواریوں نے خصوصیت کے ساتھ یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ پندرہ ماہ کی مدت گزرگئی اور دیکھو مرزا صاحب جھوٹے نکلے اور کچھ بھی نہیں ہوا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جواباً یہ لکھا کہ اس سے پوچھو اور یہ اب حلف اٹھا دے کہ واقعہ میں پندرہ ماہ کی مدت ہاویہ میں نہیں گرا رہا، ایک شدید روحانی عذاب میں مبتلا نہیں رہا تو پھر اگر یہ ایک سال کے اندر اندر ہلاک نہ ہو چاہے پھر معافی مانگے یا نہ مانگے پھر کوئی شرط نہیں ہے۔پھر یہ تقدیر مبرم ہو جائے گی خدا کی کہ لازماًیہ ہلاک ہو گا اگر ایسا نہ ہو تو پھر میں جھوٹا۔جب اس کے باوجود اس نے یہ قسم نہ کھائی اور نہ اقرار کیا نہ انکار کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر لکھا کہ دیکھو! تم دنیا کو دھوکے میں ڈال رہے ہو۔تمہیں پتا ہے کہ تم ہاویہ میں گرائے گئے تھے اور تم اس بات کی تصدیق نہیں کر رہے۔اس لئے میری دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ تم پر اب ظاہر ہوتا کہ دنیا کے لئے کوئی اشتباہ کی راہ باقی نہ رہے۔چنانچہ پھر ایسا ہی ہوا اس مدت کے اندراندروہ ہلاک ہو گیا۔تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر کئی طرح سے کام کرتی ہے۔کئی امور پر نظر رکھتی ہے۔بعض مباہلے کے چیلنج دینے والے والے ایک دم آنکھیں بند کر کے میدان میں چھلانگ لگا دیتے ہیں اور بیچارے ہوتے معصوم ہیں ویسے۔ایسے ہی ایک صاحب سے میرا واسطہ پڑا ماریشس میں۔وہاں کسی بڑے مولوی نے مباہلہ قبول نہیں کیا اور ایک صاحب مولوی نہیں ہیں عام آدمی ہیں بیچارے ویسے تعلیم یافتہ ہیں لیکن مذہبی جوش رکھتے ہیں۔انہوں نے مسجد میں آکر اعلان کر دیا، ہماری مسجد میں کہ میں مباہلہ قبول کرتا ہوں کوئی شرط نہیں ہے، بالکل منظور ہے۔ان کی اس طریق سے میں سمجھا کہ شریف آدمی ہے بیچارہ اور دھو کے میں نہ مارا جائے میں نے جماعت کو کہا کہ آپ ان کو یہ میری طرف سے پیغام دے دیں کہ اگر انہوں نے اصرار کیا تو پھر میں تسلیم کرلوں گا، میں کوئی اس سے فرار نہیں کر رہا میں تو