خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 801 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 801

خطبات طاہر جلدے 801 خطبه جمعه ۲۵ /نومبر ۱۹۸۸ء بنائیں کہ گویا خدا کی تقدیر کی نکیل لوگوں کے ہاتھ میں آگئی ہے جس طرف مرضی اس اونٹ کو لے کے چل پڑیں وہ ادھر ہی چلے گا۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر کبھی بھی انسانوں کے تابع نہیں ہوا کرتی۔اپنے مخلص بندوں کے حق میں شفقت کے طور پر نرمی دکھاتی ہے اور آسمان سے نیچے اترتی ہے لیکن یہ کہنا کہ کوئی ایسا قانون ٹھوس بن جائے جیسے Thumb Rule ہوتا ہے کہ جدھر انگوٹھا دکھایا ادھر کو رخ چل پڑے گا یہ بات درست نہیں ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔اول یہ کہ مباہلہ کرنے والا جو موقع پر موجود ہو اس کے اپنے نفس، اس کی دل کی کیفیت بھی مباہلے پر اثر انداز ہوتی ہے۔وہ غریب ہو، ان پڑھ ہو جو بھی ہوا اگر اس کے دل میں تقویٰ کا معیار بلند ہے اور اس کے دل پر مخالف کی طرف سے کوئی ایسی چوٹ پڑی ہے کہ بے اختیار اس کی ایسی آہ دل سے نکلی ہے جو لا ز ما آسمان تک پہنچا کرتی ہے۔تو پھر ایسی صورت میں خواہ کوئی فرد قوم کا رہنما ہو یا نہ ہو جو ایسے شخص کے ، خدا کے غریب بندوں کے مقابل پر آتا ہے وہ ضرور رسوا اور ذلیل کیا جاتا ہے اور ضرور ٹکڑے ٹکڑے کیا جاتا ہے۔ایسے واقعات ہو بھی رہے ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کی تفصیل انشاء اللہ محفوظ کی جارہی ہے اور جماعت کے سامنے اور باقی دنیا کے سامنے بھی رکھی جائے گی پورے پتے دے کر ، واقعات کی تفصیل بیان کر کے، گواہوں کے ساتھ انشاء اللہ یہ ساری باتیں شائع کی جائیں گی۔تو ایسا ہو جاتا ہے لیکن یہ کہ دینا کہ ہر جگہ جہاں کوئی شخص سمجھے یا نہ سمجھے تفاصیل سے آگاہ ہو یا نہ آگاہ ہو آنکھیں بند کر کے چھلانگ لگا دے کہ اچھا میں نے مباہلہ مان لیا ہے مجھے ایک سال کے اندر مار کے دکھاؤ اور آپ بے چین ہو ہو کر دعائیں کریں کہ اے خدا! اس کو مار دے ورنہ ہم گئے یہ بچپن ہے۔اس قسم کی طبیعت میں ہیجان کا پیدا کر کے ان سنجیدہ معاملات سے نبٹا نہیں جایا کرتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایسی بات کرتا ہے اس پر اول تو یہ بات کھولنی چاہئے کہ اس طرح تو خدا تعالیٰ نے آج تک کبھی ظاہر نہیں کیا کہ ہر فرد کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ کی تقدیر ہو اور وہ اعلان کرتا پھرے، جس پہ چاہے موت پھینکتا پھرے ایسا نہیں ہوگا۔کئی باتیں ہیں۔بعض دفعہ اندرونی طور پر ایک شخص کے اندر بہت تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اور اس تبدیلی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرما دیتا ہے۔باوجود اس کے کہ وہ اعلان نہیں ہوا ہوتا۔